انوارالعلوم (جلد 10) — Page 78
انوار العلوم جلد 10 تقریر دلپذیر علم ہو گیا۔ میں کانفرنس میں بولتا بہت کم تھا اور ہر ایک کے کیریکٹر کو دیکھتا رہتا تھا اور اب میں ان میں سے ہر ایک کے کریکٹر سے خدا تعالیٰ کے فضل سے واقف ہوں اور اب میں ان کے متعلق بصیرت سے واقفیت رکھتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ ان میں بعض اخلاص سے کام کرنے والے بھی ہیں گو بعض نمائشی بھی ہیں۔ مگر خوشی اس بات کی ہے کہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو اپنی سمجھ کے مطابق مسلمانوں کے فائدہ کے لئے اخلاص سے کام کرنے والے ہیں۔ مجھے یہ افسوس ہے کہ کانفرنس میں بعض مسلمانوں کی طرف سے ایسی باتیں بھی پیش ہوئیں جو مناسب نہ تھیں مگر میں نے یہی طریق رکھا کہ ان کو اپنی مجلس میں اپنے طور پر سمجھا لیا جائے تاکہ مجلس میں مسلمان ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں اور خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ ہندو لیڈروں میں تو آپس میں تفرقہ ہو جاتا مگر مسلمانوں میں اتحاد رہا اور ہندوؤں کی ایک پارٹی بھی ٹوٹ کر مسلمانوں سے مل گئی۔ اگرچہ شملہ میں کوئی بات طے نہ ہو سکی مگر یہ اس کا اثر تھا کہ کلکتہ میں ہندو مسلمان لیڈروں میں گائے اور باجا کے مسئلہ پر اتحاد ہو گیا۔ بزرگان مذاہب کی توہین کے انسداد کا جو قانون بنا ہے اس کے متعلق میری یہ رائے ہے کہ وہ نامکمل ہے۔ میں نے گورنمنٹ کے ہوم سیکرٹری کو بتایا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہتک کا انسداد اس سے بھی نہیں ہوتا۔ اس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ کسی مذہب یا ند ہی عقائد پر حملہ کیا جائے تو ہتک ہوتی ہے مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مذہب اسلام کا جزو نہیں ہیں جیسا کہ چکڑالوی نبی کو مذہب کا جزو نہیں سمجھتے۔ اصل بات یہ ہے کہ مذاہب میں حقیقی صلح تب ہی ہو گی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کیا جائے گا اور وہ یہ ہے کہ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں دوسروں کے عیب نہ گنتے رہیں۔ حضرت مسیح موعود مو علیہ الصلوة والسلام فرماتے ہیں اگر کسی مذہب میں عیب ہیں تو عیب بیان کرنے سے یہ کس طرح ثابت ہو گیا کہ عیب بیان کرنے والے کا جو مذہب ہے وہ سچا ہے عیسائیت میں اگر عیب ہیں تو اس سے اسلام سچا نہیں ثابت ہو سکتا۔ اسی طرح اگر اسلام میں عیب ہیں تو ہندو دہرم سچا نہیں قرار پا سکتا۔ سچائی کے لئے خوبیوں کا ثبوت دینا ضروری ہے۔ پس ہر مذہب کے پیرو کو چاہئے کہ اگر وہ اپنے مذہب کو سچا ثابت کرنا چاہتا ہے تو اس کی خوبیاں بیان کرے۔ اگر ایک شخص دوسرے کو کانا کے تو اس سے کس طرح ثابت ہو سکتا ہے کہ کہنے والے کی دونوں آنکھیں سلامت ہیں۔ پس حقیقی صلح تب ہو گی جب اس