انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 74

۷۴ سال سے اس پر لڑتے جھگڑتے چلے آرہے ہیں وہ کب یک لخت اپنے عقیدہ کو چھوڑ کر اتحاد کر سکتے ہیں۔وہ فرقے جو صدیوں سے ایک دوسرے سے مقابلے کر رہے ہیں جن کی ایک دوسرے کے ساتھ خونریز لڑائیوں تک نوبت پہنچی جنہوں نے جان ومال کے نقصان پر نقصان اٹھائے ان کے متعلق کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ ان باتوں کو چھوڑ کر متحد ہو جائیں گے جن پر انہوں نے جانیں دی تھیں۔پس موجودہ حالت میں تمام مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے کا یہی طریق ہے کہ مسلمان کی کامل تعریف کے لحاظ سے جسے چاہیں مسلمان سمجھیں اور جسے میں نہ چاہیں نہ سمجھیں لیکن تمدنی اور سیاسی لحاظ سے جو مسلمان کہلاتا ہے اسے مسلمان ہیں اور متحده مذہبی تمدنی و سیاسی معاملات میں مل کر کام کریں۔اس تحریک کا ایسا اثر ہوا کہ معاً مسلمانوں میں اتحاد شروع ہو گیا۔یہاں تک کہ وہ فرقے جنہیں ہمارے ساتھ سخت دشمنی تھی انہوں نے بھی اتحاد کی اس تحریک کی تعریف کی اور اس پر عمل کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔چنانچہ کئی شیعوں، سنّیوں اور اہل حد یثوں کی طرف سے خطوط آئے جنہوں نے لکھا کہ آپ اس تحریک کو جاری رکھیں آپ ہی کے ذریعہ مسلمانوں میں اتحاد اور اتفاق ہو گا۔اس تحریک کا یہاں تک اثر ہوا کہ ایک جگہ آریوں نے یہ سوال اٹھایا کہ مسلمان چونکہ احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں اس لئے ہم ان سے بحث نہیں کرنا چاہتے اور انہیں اسلام کی طرف سے مناظر نہیں سمجھتے۔اگرچہ سناتنی ہندو آریوں کو ہندو نہیں سمجھتے اور ہندو دہرم سے خارج قرار دیتے ہیں مگر انہوں نے احمدیوں کے متعلق یہ سوال اٹھایا اس جگہ شیعوں کی طرف سے جلسہ تھا اور انہوں نے احمدی مبلغین کو آریوں کے مقابلہ کے لئے بلایا ہوا تھا۔انہوں نے کہا ہم احمدیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں تم (آریہ ) احمدیوں کے ڈر کے مارے یہ سوال پیش کرتے ہو تاکہ اس بہانہ سے مباحثہ سے بھاگ جاؤ۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایسی فضا پیدا کر دی ہے کہ اب نظر آنے لگا ہے کہ مسلمانوں میں جلد اتحاد ہو سکتا ہے اور مسلمان مل کر غیروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔اسی دوران میں ’’مسلم آؤٹ لک‘‘ کا واقعہ پیش آگیا۔اس اخبار میں ایک ایسا مضمون شائع ہوا جس میں سختی سے ایک ہائی کورٹ کے ایک جج کے اس فیصلہ پر جو راج پال کے متعلق کیا گیا تھا جرح کی گئی تھی۔میں اس وقت بھی حقیقی طور پر اس مضمون میں بعض غلطیاں محسوس کرتا تھا اور اب بھی محسوس کرتا ہوں مگر جس بناء پر ایڈ یٹر اور پرنٹر’’ مسلم آوٹ لک‘‘ پر مقدمہ چلایا گیا وہ غلط