انوارالعلوم (جلد 10) — Page 73
۷۳ بے کس اور بے بس ہو اس وقت تمہیں اپنی حالت کو بدلنے کے لئے تیار ہو جانا چاہئے ورنہ اسلام کا ٹھکانا ہندوستان میں نہیں ہو گا۔ہم کسی قوم کو اس بات سے نہیں روکتے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرے اور جتھے بنائے۔ہم جس بات کو ناپسند کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ دوسری قوم کو تباہ کرنے کی کوشش کی جائے ایسی حالت میں اپنی حفاظت کے لئے سیاسی اور تمدنی ذرائع سے کوشش کرنا ضروری ہو جاتا ہے اس کے لئے کئی اشتہارات اور ٹریکٹ شائع کئے گئے جن کا یہ اثر ہوا کہ مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو گئی اور تمام مسلمانوں نے محسوس کیا کہ اب اگر ہم اپنی حفاظت کے لئے کھڑے نہ ہوئے تو سخت نقصان اٹھائیں گے۔میں نے جب اس بارے میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی ساری تباہی کی وجہ یہ ہے کہ وہ مذہبی اور سیاسی اتحاد میں فرق نہیں سمجھتے۔اس کے متعلق خدا تعالی نے مجھے ایک گربتایا اور وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے اتحاد کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے جب تک سارے کے سارے مسلمان عقائد میں متحّد نہ ہو جائیں صلح نہیں ہو سکتی کیوں کہنا چاہئے کہ ہر فرقہ کے لوگ بے شک دو سروں کو تبلیغ کریں اور اپنا ہم عقیدہ بنانے کی کوشش کریں مگر سیاسی معاملات میں مل کر کام کریں۔چنانچہ میں نے مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلاتے ہوئے شائع کیا کہ مسلمان کی دو تعریفیں ہیں۔ایک مذہبی اس کے لحاظ سے ہر ایک فرقہ اپنے فرقہ کے لوگوں کو مسلمان کہتا ہے لیکن ایک تعریف سیاسی بھی ہے یعنی جو شخص بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور قرآن کریم کو آخری شریعت قرار دیتا ہے وہ مسلمان ہے کیونکہ تمدنی اور سیاسی لحاظ سے ان سب کے فوائد مشترک ہیں۔یہ تعریف خدا تعالی کے فضل سے تھوڑے ہی دنوں میں ایسی مقبول ہوئی کہ دشمنوں نے بھی اسے قبول کر لیا اور اب سارے ہندوستان کے مسلمان سیاسی لیڈروں نے سوائے چند ایک کے اسے تسلیم کرلیا ہے۔پہلی دفعہ مسلم لیگ کے جلسہ لاہور میں اس تعریف کو پیش کیاگیا تھا۔اس کے بعد سب نے اس کو مان لیا اور سوائے ایک گروہ کے جو غیر مبائعین کا گروہ ہے یا چند متعصّب علماء اور ان کے متبعین کے سب نے اسے پسند کیا ہے اور اس گروہ نے بھی اس لئے اسے تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا کہ اس کا کچھ فائدہ نہیں بلکہ اس لئے کہ اگر وہ اسے تسلیم کر لیں تو دوسرے مسلمانوں کو ہمارے خلاف بھڑکانے کے لئے ان کے پاس کوئی حربہ نہیں رہتا۔دراصل یہ معاملہ لا یحب علی بل ببغض معاویة کا معاملہ ہے ورنہ سوائے اس طریقت کے مسلمانوں کے اتحاد کی کوئی صورت ہی نہیں ہے۔بھلا بتاؤ تو سہی وہ خوارج جن کے نزدیک خلافت کفر تھی اور جو تیرہ سو