انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 72

۷۲ کے خدمت گزار اور قابل قدر ہوں ان کے لئے محبت اور الفت کے جذبات پیدا ہوں۔یوروپین قوموں کو دیکھو جن لوگوں سے قومی خدمات صادر ہوتی ہیں ان کے مجسّمے بناتی اور یادگاریں قائم کرتی ہیں۔گو یہ درست نہیں لیکن اس حد تک ضروری ہے کہ جو لوگ سلسلہ کے لئے مفید ہوں اور جُدا ہو جائیں ان سے اپنے اخلاص کا اظہار کیا جائے اور ان کی یاد قائم رکھی جائے۔اب میں اس سال کے متعلق جو اَب ختم ہو رہا ہے بعض باتیں بیان کرتا ہوں تا دوستوں کو اس طرف توجہ دلاؤں کہ انہیں آئندہ کیا کرنا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس سال ایسے سامان پیدا ہو گئے کہ ہماری جماعت کی عزت جو پہلے تھی اس سے کئی گنا زیادہ ہو گئی ہے۔وہ لوگ جو پہلے جماعت کے سخت دشمن تھے یہ محسوسکرنے لگ گئے ہیں کہ اگر اسلام کی حفاظت کرنے والی کوئی جماعت ہے تو وہ احمدی جماعت ہی ہے پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے کہ ایسے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔ان سامانوں میں سے پہلا سامان تو لاہور کے فسادات تھے جن کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ کچھ لوگوں کے اُکسانے سے بعض سکھوں نے کچھ مسلمانوں کو نہایت بیدردی سے بے کسی کی حالت میں قتل کر دیا۔یہ ایسا واقعہ تھا کہ دشمنوں کو بھی مسلمانوں سے ہمدردی پیدا ہونی چاہئے تھی مگر جنہوں نے مارا تھا ان کی قوم نے ان کی امداد کرنی شروع کر دی۔ایسے موقع پر میں نے اپنا فرض سمجھا کہ مسلمانوں سے ہمدردی کی جائے اور جو لوگ مارے گئے ہیں یا گر فتار ہو گئے ہیں ان کے رشتہ داروں کی امداد کی جائے چنانچہ اس غرض سے ناظر اعلیٰ اور دو تین اور اصحاب کو لاہور بھیجا گیا اور جس حد تک ممکن ہو سکالوگوں کی امداد کی گئی اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی ہمدردی کی رَو پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود ان لوگوں نے بھی جو ہمدردی کے محتاج تھے اس بات کو محسوس کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ احمدی مصیبت کے وقت ہماری امداد کے لئے آئے اور انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی مدد کرنے پر آمادہ ہو گئے۔اسی دوران میں کچھ اور سامان پیدا ہو گئے۔راجپال کے مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا اور ہائیکورٹ نے ایسے شخص کو بری کر دیا جس نے صریح طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتک کی تھی اور نہایت بیدردی سے کی تھی۔یہ ایک جج کی غلطی تھی یا قانون کا نقص تھا کچھ ہی سمجھ لو مگر اس سے یہ ضرور ظاہر ہو گیا کہ مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت کی حفاظت کرنے میں کتنے بے کس اور بے بس ہیں۔اس موقع پر مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی گئی کہ تم کس قدر