انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 68

انوار العلوم جلد 10 ۶۸ تقریر دلپذیر بڑی نعمت ہے لیکن شماتت اعداء کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظت کی ضرورت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر دین کے لئے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہونے کی خواہش اور کس کو ہو سکتی ہے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان کا خطرہ ہوتا تو صحابہ آپ کی حفاظت کرتے اور قبیلہ قبیلہ کے لوگ باری باری آپ کے گھر کا پہرہ دیتے۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بات کی اجازت دیتے اور اس وقت جبکہ لوگ پہرہ د پہرہ دے رہے ہوتے آپ بعض اوقات ان سے باتیں کرنے کے لئے باہر تشریف لے آتے تاکہ ان کا دل خوش ہو چونکہ اللہ تعالی کی طرف سے احتیاط کرنے کا حکم ہے اس لئے ہم بھی احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہیں ورنہ ایسی باتیں مؤمن کے لئے خوشی کا باعث ہوتی ہیں۔ ہم خدا تعالی کے پرستار ہیں اور اس خدا کے پرستار ہیں جو ہر قسم کی طاقت اور قوت رکھتا ہے۔ کسی انسان کے پرستار نہیں ہیں اس لئے جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے کام اپنے آپ چلاتا ہے اور ان کے لئے آپ سامان پیدا کرتا۔ کے آپ سامان پیدا کرتا ہے بندوں پر خدا تعالیٰ کے کاموں کا انحصار نہیں ہوتا۔ بندوں میں سے سب سے بڑا درجہ رسول کا ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے کاموں کا انحصار رسول پر بھی نہیں ہوتا پھر خلیفہ کیا۔ خلیفہ تو رسول کا غلام ہوتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ اپنا کام آپ چلاتا ہے کوئی رہے یا نہ رہے کوئی بچے یا نہ بچے اس کا کام چلتا ہے اور کوئی اُسے روک نہیں سکتا۔ اس کے بعد میں نہایت افسوس کے ساتھ ان چند اصحاب کی دائمی جدائی پر اظہار رنج و ملال کرتا ہوں جن کو خدا تعالیٰ کی مشیت نے اس سال ہم سے جدا کر لیا ان میں سے مقدم وجود مولوی عبداللہ صاحب سنوری کا ہے۔ میرے نزدیک ہر سلسلہ کے خادم اور اسلام کے خدمت گزار کا جدا ہونا بہت رنج اور تکلیف کی بات ہے مگر مولوی عبداللہ صاحب سلسلہ کے خادم ہی نہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پرانی اور دیرینہ صحبت رکھنے کی خصوصیت ہی نہ رکھتے تھے بلکہ اپنے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک بہت بڑا نشان بھی رکھتے تھے جو ان کے دفن ہونے کے ساتھ ہی دفن ہو گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رؤیا دیکھی تھی کہ آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور بعض کا غذات پیش کئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر سرخی سے دستخط کرنے چاہے اور قلم کو زیادہ سرخی لگنے پر چھڑکا جس سے چھینٹے گرے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں پر پڑے۔ اس وقت جبکہ آپ نے یہ رویا دیکھی مولوی عبداللہ صاحب سنوری آپ کے پاؤں دبار ہے