انوارالعلوم (جلد 10) — Page 68
۶۸ بڑی نعمت ہے لیکن شماتتِ اعداء کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظت کی ضرورت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر دین کے لئے اور خدا تعالی کی راہ میں قربان ہونے کی خواہش اور کس کو ہو سکتی ہے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جان کا خطرہ ہوتا تو صحابہ آپ کی حفاظت کرتے اور قبیلے قبیلے کے لوگ باری باری آپ کے گھر کا پہرہ دیتے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بات کی اجازت دیتے اور اس وقت جبکہ لوگ پہرہ دے رہے ہوتے آپ بعض اوقات ان سے باتیں کرنے کے لئے باہر تشریف لے آتے تاکہ ان کا دل خوش ہو چونکہ اللہ تعالی کی طرف سے احتیاط کرنے کا حکم ہے اس لئے ہم بھی احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہیں ورنہ ایسی باتیں مومن کے لئے خوشی کاباعث ہوتی ہیں۔ہم خدا تعالی کے پرستار ہیں اور اس خدا کے پرستار ہیں جو ہر قسم کی طاقت اور قوت رکھتا ہے۔کسی انسان کے پرستار نہیں ہیں اس لئے جانتے ہیں کہ خدا تعالی اپنے کام اپنے آپ چلاتا ہے اور ان کے لئے آپ سامان پیدا کرتا ہے بندوں پر خدا تعالی کے کاموں کا انحصار نہیں ہوتا۔بندوں میں سے سب سے بڑا درجہ رسول کا ہوتا ہے مگر خدا تعالی کے کاموں کا انحصار رسول پر بھی نہیں ہوتا پھر خلیفہ کیا۔خلیفہ تو رسول کا غلام ہوتا ہے۔پس خدا تعالی اپنا کام آپ چلاتا ہے کوئی رہے یا نہ رہے کوئی بچے یا نہ دبچے اس کا کام چلتا ہے اور کوئی اُسے روک نہیں سکتا۔اس کے بعد میں نہایت افسوس کے ساتھ ان چند اصحاب کی دائمی جدائی پر اظہار رنج و ملال کرتا ہوں جن کو خدا تعالی کی مشیّت نے اس سال ہم سے جُدا کر لیا ان میں سے مقدّم وجود مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کا ہے۔میرے نزدیک ہر سلسلہ کے خادم اور اسلام کے خدمت گزار کاجُدا ہونا بہت رنج اور تکلیف کی بات ہے مگر مولوی عبداللہ صاحب سلسلہ کے خادم ہی نہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام سے پرانی اور دیرینہ صحبت رکھنے کی خصوصیت ہی نہ رکھتے تھے بلکہ اپنے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا ایک بہت بڑا نشان بھی رکھتے تھے جو ان کے دفن ہونے کے ساتھ ہی دفن ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ایک رؤیا دیکھی تھی کہ آپ نے خدا تعالی کے حضور بعض کاغذات پیش کئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر سرخی سے دستخط کرنے چاہے اور قلم کو زیادہ سرخی لگنے پر چھڑکا جس سے چھینٹے گرے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے کپڑوں پر پڑے۔اس وقت جبکہ آپ نے یہ رؤیا دیکھی مولوی عبد اللہ صاحب سنوری آپ کے پاؤں دبارہے