انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 43

۴۳ اسی زمانہ میں شدھی تحریک کو زور دینے کے لئے آریوں کی طرف سے نہایت گنده لٹریچر شائع ہونا شروع ہوا۔جس کا ایک ورق اور نہایت تاریک ورق وہ تھا جو راجپال نے اپنی کتاب میں اور پھر دیوی شرن شرمانے ورتمان میں لکھا۔ان کتب اور تحریروں کا جو نتیجہ ہوا وہ سب کو معلوم ہے اس پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب کچھ ایک رنگ میں موجودہ سیاسی اصلاحات کے نتیجہ میں ہوا۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اصلاحات اپنی ذات میں بُری ہیں۔یا یہ کہ انگریز حکام نے یہ فسادات اصلاحات کو روکنے کے لئے کروائے تھے۔میرے نزدیک یہ دونوں خیال باطل ہیں۔جن انگریزوں کا یہ خیال ہے کہ اصلاحات اپنی ذات میں بُری ہیں ان کی بھی غلطی ہے کیونکہ یہ فسادات اصلاحات کی وجہ سے نہیں بلکہ اصلاحات سے تنہا فائدہ اٹھانے کی خواہش سے پیدا ہوئے ہیں۔اور اسی طرح جن لوگوں نے گورنمنٹ پر یہ الزام لگایا ہے کہ اس نے یہ فسادات کروائے ہیں تاکہ پارلیمنٹ اختیارات کو چھین لے وہ بھی غلطی خوردہ ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو فسادات کی ابتداء مسلمانوں کی طرف سے ہوتی لیکن فسادات کی ابتداء ہندووں کی طرف سے ہوتی ہے۔شدھی کی تحریک (اور ایسے ناواجب طور پر) ان کی طرف سے ہوئی، گنده لٹریچر ان کی طرف سے شائع ہونا شروع ہوا۔مگر یہ کس طرح ممکن تھا کہ ہندو جن کو سوراج مل رہا تھا اور جو تعلیم یافتہ اور اپنے فوائد کو سمجھنے والے ہیں اور پھر آریہ سماج جو ہندوؤں کی سب سے زبردست پولیٹیکل پارٹی ہے وہ گورنمنٹ کے اشارے پر یہ کام کرتی تاکہ ہندوستان کو سوراج نہ ملے۔آریہ سماج کا پچھلی تحریک شدھی میں وقل بلکہ اس کی طرف سے ابتداء ہی اس امر کی ضامن ہے کہ ان فسادات میں گورنمنٹ کا کوئی ہاتھ نہ تھا اور وہ اس الزام سے بالکل پاک ہے۔ان فسادات کی بنیاد اس تنگ ظرفی پر ہے جو ہندوستان کی حکومت کو صرف اور صرف ہندوؤں کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتی تھی۔اس کی بنیاد اس ذہنیت پر ہے جو واحد خدا کے پرستاروں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شیداؤں کو شودروں کی صف میں کھڑا ہوا دیکھے بغیرنچلا بیٹھنے پر تیار نہ تھی۔ہاں میں یہ تسلیم کر ہوں کہ انگریزوں میں سے وہ لوگ جو ہندوستان کو آزاد ہوتا دیکھنا پسند نہیں کرتے انہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور خوب اٹھالیا مگراصل الزام ان حالات کا صرف ہندوستانیوں پر ہے اور ان میں سے بھی ہندوؤں پر۔اور پھر ان میں سے بھی آریہ سماج پر۔اے کاش ایک امر موہوم کی خواہش میں ملک کی ترقی کو نقصان نہ پہنچایا جاتا۔ملک کے امن کو برباد نہ کیا جاتا۔دلوں کو کدورت سے اور دماغوں کو تشویش ناک افکار سے پریشان نہ کیا جاتا۔