انوارالعلوم (جلد 10) — Page 39
۳۹ مسلمانانِ ہند کے امتحان کا وقت أعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت* (رقم فرموده مورخہ 8 دسمبر ۱۹۲۷ء) قریباً ساڑھے تین ماہ ہوئے کہ میں نے موجودہ حالات کے متعلق آخری پوسٹر شائع کیا تھا اور جواثر ان پوسٹروں کا ہوا تھا وہ چاہتا تھا کہ یہ سلسلہ جاری رہتا لیکن میں نے مناسب سمجھا کہ جو تحریک پہلے ہو چکی ہے اسے مسلمان جذب کر لیں تو پھر اور اگلا پوسٹر شائع کیا جائے۔گو میں یہ نہیں خیال کر تا کہ وہ تحریکیں جو پچھلے موسم گرما میں کی گئی تھیں وہ مسلمانوں میں پوری طرح جذب ہوگئی ہیں۔لیکن اس وقت پھر ایک اہم موقع پیش آیا ہے جس کے سبب سے میں خاموش رہنا پسند نہیں کرتا اور چاہتا ہوں کہ اپنے خیالات کو مسلمانوں کے سامنے پیش کر دوں۔شاید کہ کوئی درد مند دل ان خیالات سے متاثر ہو اور شاید کہ میں مسلمانوں کی کوئی خدمت کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا مستحق ٹھہروں۔یہ اہم موقع کیا ہے۔یہ سائمن کیشن ہے جو شروع سال ۱۹۲۸ء میں ہندوستان میں آنے والا *چونکہ مضمون لمبا ہو گیا ہے اور پوسٹر کی صورت میں شائع نہیں ہو سکتا اس لئے ٹریکٹ کی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔احباب کو چاہئے کہ مساجد اور انجمنوں کے ذریعہ سے اسے پڑھوا کر جملہ مسلمانوں کو اس کے مضمون سے آگاہ کریں اور عام طور پر دستی تقسیم نہ کریں کیونکہ دس پندرہ ہزار ٹریکٹ اس طرح کا تقسيم کردہ بہت ہی تھوڑے لوگوں تک محدود رہے گا۔ایسی کوشش ہونی چاہئے کہ پوسٹروں سے بھی زیادہ لوگ اس ذریعہ سے واقف ہو جائیں۔