انوارالعلوم (جلد 10) — Page 32
۳۲ تعالی محل انعام میں فرماتا ہے کہ آپ کی بات ان رسوم کے توڑنے کے لئے ہے۔وہ رحمتہ للعلمین ہو کر آئے ہیں۔پھر جو چیز رحمت کا باعث بھی مسلمان اسے چھوڑ کر وہی پھانسی اپنے گلے میں کیوں ڈالتے ہیں۔رسول کریم کی آمد کی غرض یہ ہے کہ ان تمام فضول اور بے جا رسوم سے جنہوں نے گردنوں میں طوق ڈال دیئے تھے آزاد کر دیں اور ان زنجیروں سے نجات دلائی۔مگر ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے یہ کس قدر شرم کا مقام ہے۔مسلمانوں کے بہت سے قرضوں اور فضول خرچیوں کی اصلاح اسی ایک امرسے ہو سکتی ہے۔میرے اُستاد حضرت خلیفہ اول اپنے جو دو سخاکی وجہ سے مشہور تھے اور لوگ آپ کے پاس اس غرض کے لئے آتے رہتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص دہلی سے آیا کہ میری لڑکی کی شادی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں اس قدر روپیہ تمہاری لڑکی کی شادی کے لئے دوں گا جس قدر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کی شادی پر خرچ کیا۔اس نے کہا کہ میری تو ناک کٹ جائے گی۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ:۔’’رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تو نہ کٹی اور تمہاری باوجود کٹ جانے کے کہ تم مانگنے کے لئے یہاں آئے ہو ایسی شادی کرتے ہوئے کٹتی ہے"۔غرض فضول رسومات کو چھوڑ دو۔تجارت تیسری چیز ہر قسم کی تجارت ہے۔اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے جب تک تجارتی غلامی سے نجات نہ ہو قومی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔تجارتی ترقی میں دوسروں کو ہم پر اعتراض کیوں ہو۔ہم ان کی ترقی پر کوئی اعتراض نہیں کرتے۔میں ہندوؤں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں جو مسلمانوں میں تجارت اور دکانوں کے اجراء کی تحریک کچھ عرصہ سے کر رہا ہوں ہرگز یہ منافرت یا ان کو نقصان پہنچانے کے خیال سے نہیں، میں بائیکاٹ اورپٹنگ کا سخت مخالف ہوں۔ابھی چند روز ہوۓ کہ پنجاب خلافت کمیٹی کے ایک لیڈر نے مجھ سے اس بارہ میں گفتگو کی میں نے صاف صاف کہا کہ پکٹنگ چھوڑ دو میں اس کا مخالف ہوں۔میں ان سے زیادہ واقف نہیں مگر میں جانتا ہوں کہ ان کے دل میں درد اسلام ہے۔میری تجارت کی تحریک محض قوم کی اقتصادی اصلاح اور ترقی کے لئے ہے میں اس کو ضروری سمجھتاہوں۔ہاں میں پٹنگ اور بائیکاٹ کو نہ جائز سمجھتا ہوں اور نہ کبھی اس کی تائید کی ہے، میں اسے فساد کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔