انوارالعلوم (جلد 10) — Page 28
۲۸ جمعية الاخوان کی تاسیس اس انجمن کا ممبر ہر بالغ مسلمان ہو۔اس مشترکہ انجمن کا کو کی مقررہ پروگرام نہ ہو وہ اس لئے کھڑی نہ ہو کہ خلافت یا مسلم لیگ کا کام کرتا ہے بلکہ اس کا نصب العین صرف اور صرف یہ ہو کہ اپنے شہر یا قصبہ یا گاؤں کے مسلمانوں کی ہر بہتری کا کام کرنا ہے۔اگر ایسی انجمنیں قائم ہو جائیں اور وہ اخلاص اور نیک دلی کے ساتھ مل کر کام کریں تو لیڈر خود ان کے پاس پہنچیں گے۔اور مقامی کاموں کے لئے لیڈروں کی چنداں ضرورت نہ ہوگی۔عام مشترکہ امور کے سرانجام دینے میں لیڈر کچھ کر نہ سکیں گے۔پس میری یہ تجویز ہے کہ ہندوستان کے ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں اس قسم کی کمیٹیاں قائم کی جاویں۔شملہ والوں سے خطاب میں سمجھتا ہوں کہ شملہ والے یہاں زیادہ ہیں سب سے پہلے وہ ایک کمیٹی بنادیں اور اس کا پہلا اصل یہ ہو کہ کسی میر کے مذہبی عقائد میں درست اندازی نہ کریں۔مذہب کا ایک شوشہ بھی کوئی قربان نہیں کرست اور اگر وہ باہمی اختلافی امور میں جھگڑا شروع کر دیں گے تو اصل کام جو امور مشترکہ میں مسلمانوں کے فوائد عامہ کا ہے رہ جائے گا۔اس لئے ضروری ہو گا کہ مذہبی امور میں قطعاً مداخلت نہ ہو اور مسلمانوں کی علمی، اقتصادی اور سیاسی ضروریات کے متعلق متحدہ کوشش کریں اگر ایسی کمیٹی یہاں بن جاوے اور کام شروع ہو جاوے تو دوسرے لوگ بھی دوسرے مقامات پر ایسا ہی کریں گے۔میں یہ بھی کہتا ہوں کہ یہ کمیٹی کسی لیڈر اور کسی کمیٹی کے ماتحت نہ ہوگی۔جب یہ پروگرام جاری ہو جاوے اور ملک میں اس قسم کی کمیٹیوں کا عملی کام شروع ہو جائے تو پھرلیڈر بھی لیڈری کاکام کریں گے کیونکہ وہ نمائندے ہوں گے۔انکی رائے کو ٹھکرا دینا سات کروڑ کی رائے کو ٹھکرانا ہو گا اور یہ حکومت بھی نہیں کر سکے گی۔جمعية الاخوان کے عام مقاصد پس تمام کم کے خیالات کے مسلمانوں کو شریک کر کے کمیٹی کی بنیاد رکھ دیں اور جو مشترک امور ہیں ان کی اصلاح کے لئے تیار ہو جائیں۔اس مجلس کے ممبروں پر چندہ لازمی نہ ہو جو کوئی اپنی خوشی سے جس قدر چاہے دے اور اس کا کام یہ ہو:۔(1) کوئی مسلمان آوارہ نہ رہے۔ایسے لوگوں کے لئے کوئی نہ کوئی کام تجویز کیا جاوے۔(۲) لوگ اپنے اپنے حقوق ادا کریں۔اس سے معاملات میں صلاحیت اور درستی پیدا ہوگی۔(۳) اپنی اپنی جگہ ایک پنچایت قائم کریں اور تمام تنازعات باہمی کو اسی پنچایت میں عدل و انصاف