انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 20

۲۰ ہیں کہ وہ ہر مقابلہ میں بڑھنا چاہتے ہیں اور ہم صرف باتوں سے آگے نہیں بڑھتے۔میں کہتا ہوں کہ تم اپنی اولاد کے اندر یہ آگ لگا دو کہ وہ کسی کو آگے نہ بڑھنے دیں اور زندگی کے ہر شعبہ میں سب سے آگے نکل جاویں۔علم میں، اخلاق میں، اقتصادی حالت میں، سیاست میں ، مذ ہب میں، غرض کیا چیز میں کسی سے پیچھے نہ رہیں۔مگر یاد رکھو کہ یہ مقابلہ امن اور اخلاق کا مقابلہ ہے۔دوسروں سے آگے بڑھنے میں کبھی تمہاری اخلاقی کمزوری ظاہر نہ ہو بلکہ اخلاقی فتح کے ساتھ امن کو قائم رکھتے ہوئے آگے بڑھو۔(8) صحت کی درستی صحت کی درستی نہایت ہی اہم فرائض میں سے ہے۔اپنی صحت کے ساتھ اپنی اولاد کی صحت کی طرف خاص طور پرتوجہ کرو۔اس کے لئے بہت بڑی ضرورت ہے کہ غذا صحیح وقت پر دی جائے۔نہ تو اتنی کم دی جائے کہ پیٹ نہ بھرے اور نہ اس قدر کہ سُوءِہضمی ہو۔میں اس وقت ان امور پر کوئی تفصیلی تقریر نہیں کر سکتا بلکہ میں صرف اصول بتا رہا ہوں۔غذا کے بعد دوسرا امر ورزش ہے۔اس کا لحاظ رکھا جاوے تاکہ ان کا نشوونما صحیح طور پر ہو۔اور پھر سب سے زیادہ خیالات اور افکار کی درستی ہے۔مسلمان بچوں کے اخلاقی جلد بگڑ جاتے ہیں۔اس پر غذا کا بھی اثر ہوتا ہے۔بچپن سے بوٹیاں کھانا شروع کر دیتے ہیں۔اس سے شہوات ترقی کرتی ہیں ذہن ترقی نہیں کرتا۔اس کے لئے ضرورت ہے کہ ان کی غذا میں اس امر کالحاظ رکھا جاوے کہ ان کو دودھ اور دودھ بھی گائے کا زیادہ دیا جاوے۔اور نباتات کا جزو غالب ہو اس سے وسعت خیالات اور باریک بینی پیدا ہوتی ہے۔گوشت بھی ضروری ہے مگر کم مقدار میں، زیادہ مقدار دودھ اور نباتات کی ہو۔اس سے افکار کی درستی ہوگی۔(۹) صفائی نویں ضرورت عام صفائی کی ہے۔ظاہری صفائی کا اثر باطن پر پڑتا ہے۔لوگوں نے یہ غلط سمجھا ہے کہ جس قدر گندے رہیں وہ نیکی ہے۔یہ غلط ہے اسلام و صفائی کی تاکید کرتا ہے۔نیکی اور تقویٰ کو صفائی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ اب یا تو لوگوں نے صفائی کے مفہوم کو بالکل بدل دیا ہے اور سادگی سے گذرکر تکلّف اور نمائش کو یہ جگہ دے دی ہے۔اور یا بعض نے بالکل گندے رہنے کا نام نیکی اور بزرگی رکھ دیا ہے۔اسلام افراط اور تفریط دونوں سے روکتا ہے۔پرنس آف ویلز جب ہندوستان آئے تو لاہور کے مقام پر میں بھی مدعو تھا۔گو میری عادت