انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 577

۵۷۷ خلاف کچھ نہ کہو- جب یہ پیغام ایک رئیس نے آپ کو پہنچایا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ میری بے نفس خدمت کی ان لوگوں نے کیا قیمت ڈالی ہے- اور جواب میں فرمایا اگر سورج کو میرے دائیں رکھ دو اور چاند کو بائیں اور کہو توحید چھوڑ دوں تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا- پیغام لانے والا آپ کا بڑا سخت دشمن تھا- مگر آپ کا جواب سن کر اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے جا کر اپنے ساتھیوں سے کہا میں نے جو باتیں اس کے منہ سے سنی ہیں، ان کی وجہ سے کہتا ہوں اس کی مخالفت چھوڑ دو ورنہ تباہ ہو جاؤ گے- غرض آپ کو دشمنوں کی طرف سے تمام تکلیفیں توحید کی اشاعت کی وجہ سے دی گئیں- آپ کو مارا جاتا، کتے اور لڑکے آپ کے پیچھے ڈالے جاتے- ایک دفعہ آپ طائف گئے تو وہاں کے لوگوں نے اس قدر مارا کہ آپ سر سے لے کر پاؤں تک لہولہان ہو گئے- آپ تکلیف کی وجہ سے گر پڑتے لیکن جب اٹھتے تو وہ لوگ پھر آپ پر پتھر پھینکتے- ایسی حالت میں بھی آپ کے منہ سے یہی نکلتا خدایا ان لوگوں کو معاف کر دے کہ یہ حقیقت سے بے خبر ہیں- ان تمام حالات میں سے گذرتے ہوئے آپ نے توحید کی تبلیغ کو نہیں چھوڑا اور یہی کہتے رہے کہ خواہ یہ کچھ کریں میں توحید کی تبلیغ نہیں چھوڑ سکتا- پھر جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اس وقت بھی یہی کہتے فوت ہوئے- میرے بعد شرک نہ کرنا اور میں تو سمجھتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت بھی خدا تعالیٰ نے اپنی توحید کا ثبوت آپ کے والد کو قبل ازولادت اور والدہ کو جلد بعد از ولادت فوت کر کے دیا- آپ کی بے کسی کی ابتداء اور شاندارانجام خود خدا تعالیٰ کی توحید کا بڑا ثبوت تھا- اب میں مضمون کا دوسرا حصہ بیان کرتا ہوں جو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری قوموں سے کیا سلوک کیا اور ان کے متعلق کیا تعلیم دی- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت واضح طور پر یہ تعلیم دی ہے- کہ کسی کی خوبی کا ا نکار نہیں کرنا چاہیئے اور یہ بھی کہ ہر مذہب میں کچھ نہ کچھ خوبیاں ہیں جن کا انکار کرنا ظلم ہے- چنانچہ قرآن میں آتا ہے وقالت الیھود لیست النصری علی شی وقالت النصری لیست الیھود علی شی وھم یتلون الکتب- ۶؎ فرمایا کیسے ظلم کی بات ہے، عیسائی کہتے ہیں یہودیوں میں کوئی خوبی نہیں اور یہودی کہتے ہیں عیسائیوں میں کوئی خوبی نہیں، حالانکہ دونوں ایک ہی کتاب پڑھنے والے ہیں- کیا اس میں کوئی بھی خوبی نہیں- تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی کہ دوسروں کی