انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 19

۱۹ کریں اس وقت تک ان میں قومی وقار پیدا نہ ہو گا۔میں اپنی نسبت نہیں کہتا۔میں تو گالیاں سننے کا مشّاق اور عادی ہوں۔کافر مرتد جو چاہتے ہیں کہتے ہیں لیکن میں یہ اُصول بتائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جولوگ قوم کی خدمت کرتے ہیں ان کا ادب کرو اور اپنے بچوں میں اپنے عمل سے یہ سپرٹ پیدا کر دو کہ تم اختلاف رائے رکھتے ہوئے بھی خادمانِ قوم کا احترام کرتے ہو۔(۶) انسانی ہمدردی چھٹی چیز جس کی ضرورت ہے وہ انسانی ہمدردی ہے۔مسلمانوں میں اس کا مادہ بھی کم ہے۔انسانی ہمدردی کے بغیر قربانی کامادہ نہیں پیدا ہو تا۔دیکھو یورپ کے عیسائی ہزاروں میل چل کر یہاں آتے ہیں اور کوڑھیوں کی خدمت کرتے ہیں۔ہندوؤں میں بھی سیوا سمتی ہے۔مگر مسلمانوں میں ایسی سوسائٹیاں نہیں۔پس عام انسانی ہمدردی سے کام کرو۔جب اس کی عادت ہو جائے گی تو عند الضرورت قوم کے لئے ہر قسم کی قربانی کر سکو گے۔(۷) مقابلہ کی خواہش ساتویں چیز جس کی کمی ہے اور اخلاق کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے وہ مقابلہ کی خواہش ہے۔مسلمانوں میں اب یہ قوت نہیں رہی حالانکہ قرآن کریم نے مسلمانوں کو اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔اور یہ حکم دیا تھا فاستبقوا الخيرت ۴؎ آپس میں مقابلہ کر کے نیکیوں میں آگے بڑھا کرو۔قرآن مجید تو آپس میں مقابلہ کی تعلیم دیتا ہے تو غیر قوموں کے ساتھ مقابلہ میں سست ہو جانا تو اور بھی گناہ ہؤا۔اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم مقابلہ میں سست ہوں اور یہ مقابلہ آگے بڑھنے میں ہے۔جائز اور پُرامن طریقوں سے باپ اور بھائی سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرو کہ اس قوت کو عملی رنگ دینے سے انسان کبھی سست نہیں ہوتا اور ہر وقت ترقی کے خیال سے مصروف عمل رہتا ہے۔پس قومی خدمت کے لئے اپنے عزیزوں اور بزرگوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔اور قومی وقار اور اعزاز کو ہمسایہ قوموں سے آگے بڑھانے کے لئے علمی، اقتصادی و اخلاقی امور میں ان سے آگے بڑھ جاؤ۔اور ہمیشہ پیش نظر رکھو کہ تم کو فاستبقوا الخيرت پر عمل کرتا ہے۔ایک واقعہ حضرت مولانا اسماعیل شہید کی زندگی کا ایک سبق آموز ہے کہ ان میں مقابلہ کی خواہش کو عملی طور پر ترقی دینے کے لئے کس قدر جوش تھا۔ان کا سکھوں سے مقابلہ تھا۔کسی نے ان کو کہہ دیا کہ ایک سکھ بڑا تیراک ہے۔آپ نے فوراً دریا میں اتر کر تیرنا شروع کر دیا۔اور اس میں کافی دسترس حاصل کر لی۔یہ روح تھی جو ہمارے اسلاف میں موجود تھی۔اب یہ قوت ہم میں سے جاتی رہی۔دوسرے