انوارالعلوم (جلد 10) — Page 18
۱۸ (۳) سادہ زندگی چوتھی بات جس کی ہم کو ضرورت ہے وہ سادہ زندگی ہے۔مسلمانوں میں اسراف بہت بڑھ گیا ہے آمد سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ہندوؤں میں ایسے لوگوں کی تعداد بمشكل تین فیصدی ہوگی مگر مسلمانوں میں یہ مرض عالمگیر ہے۔جب تک ہم میں سادہ زندگی نہ ہو خصوصاً نئی پودمیں اس وقت تک قومی حالت کی تبدیلی ممکن نہیں۔(۵) ادب پانچویں بات ادب کی کمی ہے۔ہندو تعلیم یافتہ ہو کر بھی اپنے بڑوں بزرگوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر سلام کرتے ہیں۔میں تو اس طرح پر سلام کرنے کو شرک سمجھتا ہوں۔لیکن میں ہندو قوم کا قومی کیریکٹر بتاتا ہوں کہ ان میں اپنے بزرگوں کے ادب کی عملی روح موجود ہے۔ہم کو یہ تعلیم خصوصیت سے دی گئی تھی کہ جو بڑوں کا ادب نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں، لیکن یہ ادب مفقود ہے۔پس ہمارے نوجوان ادب سیکھیں۔اس سے ان میں وقار پیدا ہو گا اور قومی کیریکٹر مضبوط۔میں اس وقت ایک مثال دیئے بغیر آگے نہیں جا سکتا۔ان کو آپریشن NON- COOPERATON (ترک موالات) کے زمانہ میں گاندهی جی ترک موالات کا وعظ کہتے تھے۔لیکن مالوی جی کہتے تھے کہ گورنمنٹ ہاتھ بڑھائے تو ہمیں بھی بڑھانا چاہئے۔دونوں لیڈروں میں اختلاف رائے تھا مگر اس کا یہ نتیجہ نہ تھا کہ ان میں مخالفت ہو یا ایک دوسرے کی تذلیل روا رکھ سکتا ہو۔وہ برا بر ایک دوسرے کا ادب اور اکرام کرتے تھے۔دوسری طرف محمد علی صاحب اور جناح صاحب تھے۔جناح صاحب اس وقت سے مسلمانوں کی خدمت کرتے آئے ہیں کہ محمد علی صاحب ابھی میدان میں نہ آئے تھے۔لیکن ایک موقع پر اختلاف رائے کا نظارہ یہاں تک دیکھا گیا کہ جناح صاحب کو کھڑکی میں سے نکلنا پڑا۔دوسری طرف گاندھی جی نے مالویہ جی کو اپنی گدی پر جگہ دی۔جب رَو بدلی تومالویہ جی نے کہہ دیا کہ میں اپنی قوم کا نمائندہ ہوں مگر جناح کی یہ طاقت نہ ہوئی۔میرا مطلب اس کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ کام کی قدر کرنی چاہئے۔اختلاف رائے کی صورت میں بھی ادب کے طریق کو ترک نہیں کرنا چاہئے۔میں صاف صاف کہتا ہوں کہ جناح صاحب میرے لیڈر نہیں۔میں اپنی قوم کا آپ لیڈر ہوں۔میرا ان سے بعض معاملات میں اختلاف بھی ہے لیکن میں ان کی خدمات کے باعث انکو قابل عزت اور قابل ادب سمجھتا ہوں۔جب تک مسلمانوں میں یہ احساس نہ ہو کہ خدمت کرنے والوں کی خدمات کا اعتراف کریں اور ان کا ادب