انوارالعلوم (جلد 10) — Page 547
۵۴۷ بقائے نسل کا جذبہ انسانی فطرت بقائے نسل کے جذبہ سے نہایت ہی گہرے طور پر رنگین ہے جونہی ایک عورت کامل جوان ہوتی ہے اولاد کی خواہش خواہ الفاظ میں پیدا نہ ہو مگر تاثیرات کے ذریعہ سے ظاہر ہونے لگتی ہے صحیح القویٰ مرد خواہ کسی قدر ہی آزاد کیوں نہ ہو اپنی علیحدگی کی گھڑیوں میں اس کی طرف ایک زبردست رغبت پاتا ہے مگر باوجود اس کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ خدا رسیدوں کو اولاد سے کیا تعلق- وہ نہیں سمجھتے کہ اگر اولاد سے ان کو تعلق نہیں تو اولاد کی تربیت جو نسل انسانی کا ایک اہم ترین فرض ہے اس میں دنیا کا رہنما کون ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اولاد ہوئی اور آپ نے اس اولاد پر فخر کیا اس کی محبت کو چھپایا نہیں اسے خدا کی ایک رحمت قرار دیا- اولاد سے بے تعلقی کا اظہار نہیں کیا اس کی طرف توجہ کی اور اس کی تربیت کا خیال رکھا- اس سے بے اعتنائی نہیں ظاہر کی بلکہ اس سے محبت کرنے کو خدا تعالیٰ کے مقدس فرائض میں سے قرار دیا جب وہ نا سمجھ تھی اس کی پرورش کی جب وہ چھوٹی تھی اس کی تربیت کی جب وہ بڑی ہوئی اسے تعلیم دلائی اور جب وہ اپنے گھر بار کی مالک ہوئی اس کا ادب کیا اور اپنی محبت کا مقر اسے بنایا- ایک دفعہ آپ کا ایک نواسہ بیمار ہوا اس کے دیکھنے کیلئے آپ کی صاحبزادی نے آپ کو بلایا اس کی حالت اس وقت سخت تکلیف کی تھی اور زندگی کی آخری گھڑیوں کو نہایت اضطراب اور دکھ کے ساتھ وہ طے کر رہا تھا- آپ نے اسے ہاتھوں میں لیا اور اس کے اضطراب کو دیکھا آنکھیں فرط محبت اور وفوررحمت سے پرنم ہو گئیں- ایک شخص جو اس حقیقت سے ناواقف تھا کہ نبی کے لئے یہی ضروری نہیں کہ ہمیں خدا کی باتیں سکھائے بلکہ اس کا یہ بھی کام ہے کہ وہ ہمارے لئے کاملنمونہ ہو انسانیت کا، مکمل نقشہ ہو بشریت کا- اس امر کو دیکھ کر حیران ہو گیا اور بے اختیار ہو کر بولا- یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو ہمیں صبر کا سبق دیتے ہیں اور آج خود آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں آپ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا تمہارا دل شاید رحم سے خالی ہوگا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے رحم دل بنایا ہے- کیا لطیف سبق ایک ہی فقرہ میں دے دیا کہ اولاد کی محبت اور ان کی تکلیف کا احساس تو انسانیت کے اعلیٰ جذبات میں سے ہے خدا کا نبی ان جذبات سے خالی کیونکر ہو سکتا ہے وہ دوسروں کے لئے اس میں بھی نمونہ ہے جس طرح اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق میں نمونہ ہے-