انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 531

۵۳۱ پھر کہتے ہیں- سورۃ حج کی ایک آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسے رد کر دیا گیا ہے- لیکن ان کے مقابلہ میں ابن عربی نے اس آیت کے یہ معنی کئے ہیں کہ شیطان انبیاء کے رستہ میں روڑے اٹکاتا ہے اور خدا تعالیٰ ان کو دور کر دیتا اور نبی کو کامیاب کر دیتا ہے- غرض ایک ایک بات صوفیا کی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح انہوں نے بالکل صحیح اور درست کہی- اسی سلسلہ میں اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج جو ترقیاں فلسفہ، اخلاق، تاریخ وغیرہ کی بیان کی جاتی ہیں، یہ سب کچھ پہلے قرآن کریم میں بیان ہو چکی ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فلسفہ اخلاق کی ایسی تھیوریاں بیان کی ہیں کہ پہلے لوگ ان کے خلاف تھے- لیکن اب امریکہ والوں نے وہ باتیں لکھی ہیں تو ان کی بڑی تعریف کی جا رہی ہے، حالانکہ ان سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ باتیں نہایت وضاحت سے لکھ دی ہیں- بادلوں کے متعلق پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ سمندر سے پانی پی کر آتے اور برستے ہیں- حالانکہ قرآن کریم میں صاف لکھا ہے پانی سے بخارات ہوائیں اٹھاتی اور پھر بادل بوجھل ہوتے اور برستے ہیں- بدی اور نیکی کی صحیح تشریح سے پہلے لوگ واقف نہ تھے- اب قرآنکریم سے یہ سب کچھ معلوم ہوا ہے مگر یہ باتیں کسی ایسے انسان نے بیان نہیں کیں جو دنیاوی علوم کے لحاظ سے بڑا عالم ہو- بلکہ اس شخص نے بیان کی ہیں جس نے کسی مدرسے میں تعلیم نہیں پائی اور جس کے متعلق مخالف یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ وہ صحیح اردو بھی نہیں لکھ سکتا- بات یہ ہے قرآن کریم کے علوم ظاہری علم سے وابستہ نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ سے وابستہ ہیں- آج سے تیس سال قبل بہت سے لوگ ایسے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہتے تھے انہیں اردو بھی نہیں آتی اور عربی دوسروں سے لکھ کر اپنے نام سے شائع کرتے ہیں- بعض لوگ کہتے ہیں مولوی نورالدین آپ کو کتابیں لکھ کر دیتے ہیں- خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی یہ دعویٰ نہ تھا کہ آپ نے ظاہری علوم کہیں پڑھے- آپ فرمایا کرتے میرا ایک استاد تھا جو افیم کھایا کرتا تھا اور حقہ لے کر بیٹھ رہتا تھا- کئی دفعہ پینک ۴؎ میں اس کے حقے کی چلم ٹوٹ جاتی- ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا- غرض آپ کو لوگ جاہل اور بے علم سمجھتے تھے- کئی لوگ اس بات کے مدعی تھے کہ آپ کو کئی سال پڑھانے کی قابلیت رکھتے ہیں- اب اس سوال کو جانے دو کہ آپ نے دنیا میں کیا تغیر پیدا کیا- مگر اس میں شبہ نہیں کہ سارا اسلامی