انوارالعلوم (جلد 10) — Page 524
۵۲۴ نہیں رکھتی، وہ تمام عالم میں سکون اور خاموشی دیکھ رہا ہوتا ہے- لیکن محبت کے جذبات اتنا عظیم الشان تلاطم اندر ہی اندر پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ کان جو محبت کے اثرات سننے سے نا آشنا اور وہ آنکھیں جو محبت کی حرکات دیکھنے سے قاصر ہوتی ہیں، وہ بھی حیران رہ جاتی ہیں- میں نے اس کے اثرات کو دیکھا اور بار ہا دیکھا ہے- بیسیوں دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نہایت کمزوری اور نقاہت کی حالت میں دوستوں کی مجلس میں آیا اور اس خیال اور اس وثوق سے آیا کہ اس قلیل عرصہ میں کوئی موقع ایسا پیدا نہیں ہو سکتا کہ دوست مجھ سے باتیں سننے کی جو خواہش رکھتے ہیں، وہ پوری کی جا سکے- لیکن ایک مخفی ہاتھ نے اور اس مخفی ہاتھ نے جو گرے ہوئے کو اٹھاتا اور کمزور کو سہارا دیتا ہے، میری حالت میں تغیر پیدا کر دیا اور خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں تقریر کروں اور دوستوں کو روحانی اور جسمانی تربیت کے متعلق باتیں سناؤں- اسی جلسہ سالانہ پر ایک صاحب نے جو یوں تو کئی سال سے ملتے ہیں مگر ابھی تک غیراحمدی ہیں مجھ سے سوال کیا کہ میں نے کئی بار دیکھا ہے آپ بیمار اور کمزور ہوتے ہیں مگر پھر لمبی لمبی تقریریں بھی کرتے ہیں- آپ کو کس قسم کی بیماری ہے جس کی آپ کوئی پرواہ نہیں کرتے اور اتنی مشقت برداشت کر لیتے ہیں- میں نے کہا مجھے بیماری تو اسی قسم کی ہوتی ہے جس قسم کی دوسرے لوگوں کو ہوتی ہے مگر موقع پر خدا تعالیٰ طبیعت میں ایسا تغیر پیدا کر دیتا ہے کہ میں تقریر کے لئے کھڑا ہو جاتا ہوں اور پھر وہ خیالات کے اظہار کی توفیق بھی عطا کر دیتا ہے- میں آج بھی ارادہ تو نہ رکھتا تھا کہ یہاں کوئی تقریر کروں- چند ہی دن ہوئے کہ میں چارپائی سے اٹھا ہوں- ۶ دسمبر سے لے کر آج پانچ دن قبل تک میں صاحب فراش تھا- اسی وجہ سے لاہور تک موٹر میں آنے کی وجہ سے کمر میں درد ہو گیا ہے- آج کچھ حرارت بھی ہے، اس لئے میں امید نہ رکھتا تھا کہ کچھ بیان کر سکوں گا- مگر بعض دوستوں نے جب مجبور کیا کہ میں کرسی پر بیٹھوں اور یہ مجھے گراں گذرا کہ باقی دوست فرش پر بیٹھے ہوں اور میں کرسی پر بیٹھوں- اس لئے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ تقریر کروں- اسی طرح سب دوست دیکھ بھی لیں گے اور باتیں بھی سن لیں گے- میں نے اس سال سالانہ جلسہ کے موقع پر قرآن کی طرف دوستوں کو خاص طور پر توجہ دلائی تھی- اس وقت بعض دوستوں نے کچھ سوالات کئے تھے اور رقعے لکھ کر دے تھے- چونکہ دوران تقریر میں جواب دیتا اصل تقریر سے دوسری طرف متوجہ