انوارالعلوم (جلد 10) — Page 476
۴۷۶ تک مذکورہ بالا امور کے متعلق جو قانون اساسی تیار ہو، اس میں کوئی تبدیلی نہ ہو- اور نیز یہ کہ ایسے قانون کو صرف انہی صوبوں میں رائج کیا جا سکے جہاں کے دو تہائی مسلمان ممبر اپنے صوبہ میں اس کے اجراء کا فیصلہ کر دیں- ان احتیاطوں سے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت ہو سکتی ہے- اور کوئی وجہ نہیں کہ ہندو صاحبان ان احتیاطوں کے متعلق راضی نہ ہوں- اب ہمیں کیا کرنا چاہئے میں اس وقت تک نہرو رپورٹ کے ان ضروری امور کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں جن کا تعلق مسلمانوں کے مطالبات کے ساتھ ہے- پس اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے- بہت سے لوگ ہونگے جو نہرو رپورٹ کے نقائص کو دیکھ کر یہ کہہ دیں گے کہ ہم اس رپورٹ کو تباہ کر دیں- لیکن میں اس رائے کے سخت مخالف ہوں- جو کچھ میں اوپر لکھ چکا ہوں اس سے قارئین سمجھ گئے ہونگے کہ اسلامی مفاد کی حفاظت کے معاملہ میں نہرو رپورٹ کی مخالفت میں کسی دوسرے شخص سے میں پیچھے نہیں ہوں- لیکن باوجود اس کے میں اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ اپنے رنگ کی پہلی کوشش ہے جس میں ہندوستانیوں کی طرف سے اپنے نصب العین کو تفصیلی رنگ میں پیش کیا گیا ہے- اور اس لئے اس امر کی مستحق ہے کہ اگر اس کی اصلاح ہو سکے تو ہم اس کی اصلاح کر دیں اور اسے اپنا متفقہ مطالبہ بنا لیں- وہ قوم جو ہر روز نئے سرے سے کام شروع کرتی ہے، اپنے کام میں ہرگز کامیاب نہیں ہوتی- نئے سرے سے کام شروع کرنے میں یہ نقص ہوتا ہے کہ سب سوالات پر پھر نئے سرے سے بحث ہوتی ہے- پھر دوبارہ ان امور پر وقت خرچ کیا جاتا ہے جن پر ایک دفعہ وقت خرچ ہو چکا ہوتا ہے- اور نیاجوش اور نیا ولولہ پھر اس مقام پر پہنچنے تک خرچ ہو جاتا ہے جس مقام تک کہ ہم پہلے پہنچ چکے تھے- اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کولہو کے بیل کی طرح دماغ، وقت، روپیہ بلکہ اتحاد کی قربانیوں کے بعد پھر اسی جگہ کھڑا رہتا ہے جس جگہ کہ وہ اس تحریک سے پہلے تھا- وہ قوم جو نئے سرے سے ریل اور تار کی ایجاد میں مشغول ہوگی تا کہ کسی کی ممنون احسان نہ ہو، کبھی دوسری اقوام کے مقابلہ پر کھڑا ہونے کے قابل نہ ہوگی- پس میرے نزدیک ہماری کوشش یہ نہ ہونی چاہئے کہ ہم اس رپورٹ کو تباہ کر دیں- بلکہ یہ کہ ہم اس رپورٹ میں اصلاح کریں اور اگر اس رپورٹ کے مرتب کرنیوالوں نے بعض اچھی باتیں لکھی ہیں تو ان کا فخر انہیں حاصل ہونے