انوارالعلوم (جلد 10) — Page 7
۷ زندگی بسر کر سکیں گے۔پس قبل اس کے کہ معاملہ حد سے گزر جائے اور مرض لا علاج ہو جاوے اٹھو قومی اور شخصی اصلاح کی فکر کرو ورنہ حالت نہایت خطرناک ہے۔ناگپور کے واقعات پر ایک خط کا اقتباس فسادات کے متعلق ایک تازہ رپورٹ پڑھتا ہوں۔لوگوں کو پچھلے حالات سے جو میں شائع کر چکا ہوں معلوم ہے کہ خدا تعالی نے میرے دل میں اسلام کے لئے ایک درد ديا ہے اور مسلمانوں کی حالت دیکھ کر مجھے جو تکلیف ہوتی ہے خدا کے سوا اسے کوئی سمجھ نہیں سکتا لیکن باوجود اس کے میں نہیں کہہ سکتا کہ فسادات کی تمام تر ذمہ داریاں ہندووں پر ہیں۔میرے پاس ناگپور سے ایک رپورٹ آئی ہے۔میں جانتا ہوں لکھنے والا جھوٹ نہیں بولتا یہ ممکن ہے کہ اس کے کان میں میانہ کے ساتھ خبریں آئی ہوں مگر ان حالات کو پڑھ کر اور سن کر ایک شخص اس نتیجہ پر آئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کا اعتماد اُٹھ گیا ہے۔(اس موقع پر حضرت اقدس نے ناگپور سے آیا ہوا ایک خط سنایا جس میں فسادات کی مفصل رپورٹ تھی۔چونکہ وہ حالات اخباروں میں آ چکے ہیں اس لئے اس کی نقل کی یہاں ضرورت نہیں)۔میری ہمدردی سب کے ساتھ ہے میں دیکھتا ہوں کہ آپس کے تعلقات کی اس خرابی نے حالت یہاں تک پیدا کر دی ہے کہ جائز اخلاقی مدد اور ہمدردی کی روح مفقود ہو رہی ہے۔میں نے لاہور کے فسادات میں شائع کیا تھا کہ جہاں میں مسلمان زخمیوں سے ہمدردی کرتا ہوں سکھوں اور ہندو زخمیوں سے بھی ویسی ہی ہمدردی رکھتا ہوں۔یہ ایک معمولی بات تھی اور ہر شخص کو جو انسانیت کی حقیقت سمجھتا ہے ، یہی کرنا چاہئے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مسلمانوں نے مجھ پر اعتراض کیا کہ میں مسلمانوں کے سوا دوسروں سے کیوں ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔میں نے کہا کہ اگر مسلمان نہ بھی لڑے ہوتے تو بھی میں ہندو اور سکھ زخمیوں کے ساتھ ویسی ہی ہمدردی کرتا۔اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہی تعلیم دی ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ ظالم اور مظلوم دونوں سے ہمدردی کروں۔مظلوم کی ہمد ردی تو ظاہر ہے کہ وہ ہر قسم کی ہمدردی کا مستحق ہے لیکن ہم کو تو ظالم کی ہمدردی کی بھی تعلیم دی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو ظلم کرنے سے روکیں۔پس میرا مذہب تو یہی ہے کہ میں ظالم سے بھی ہمدردی کروں۔میں یہ کہنے سے نہیں رک سکتاکہ ان فسادات میں اگر کسی جگہ ہندوؤں نے ابتداء کی تو مسلمانوں نے بھی کمی نہیں کیا پس