انوارالعلوم (جلد 10) — Page 456
۴۵۶ ساتھ ان میں حکومت بھی ہے- اور ہندؤوں کا دیرینہ آئڈیل (IDEAL) ان کے ذریعہ سے پورا ہوتا نظر آتا ہے- یعنی یہ کہ وہ پھر ہندو تہذیب کو دنیا میں قائم کریں گے- پس ڈسٹرکٹ بورڈوں پر قیاس کرنا بالکل درست نہیں انگلستان کے پارلیمنٹ کے انتخاب اور لوکل بروز (BOROUGHS) کے انتخاب کے نتائج کو سامنے رکھ کر دیکھ لو- کہ ملک پارلیمنٹ میں اور پارٹی کو بھیجتا ہے- اور لوکل بروز (BOROUGHS) اور میونسپل کمیٹیوں میں بعض دفعہ بالکل مخالف پارٹی کو بھیجتا ہے- اس لئے واقفان سیاست جانتے ہیں کہ ایک کے نتائج پر دوسری کا قیاس نہیں کرنا چاہئے- پس میں نہیں سمجھ سکتا کہ نہرو کمیٹی یا ہمارے پنجاب کے ممبر کونسل نے کس طرح دونوں کو ایک شے قرار دے کر بورڈوں کے انتخاب سے کونسلوں کے متعلق نتیجہ نکال لیا ہے- ڈسٹرکٹ بورڈوں سے ہندؤوں کی بے اعتنائی میرے نزدیک سیاسی اصول کے مطابق اور عقلی دلائل کی رہبری سے غور کرنے کے علاوہ اگر ہم خود ان عداد پر غور کریں تو بھی ہمیں یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ انتخاب کا جو نتیجہ پیدا ہوا ہے وہ مسلمانوں کی ہوشیاری کی وجہ سے نہیں- بلکہ ہندؤوں کی بیاعتنائی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے- چنانچہ دیکھ لو کہ مسلمانوں نے جس قدر نشستیں زائد لی ہیں وہ ہندؤوں سے لی ہیں نہ کہ سکھوں سے- اگر مسلمانوں کی ہوشیاری کے سبب سے یہ نتیجہ نکلتا تو وہ سکھوں سے بھی زائد نشستیں حاصل کرتے مگر اعداد کے مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب نشستیں ہندؤوں ہی نے کھوئی ہیں ان کی نشستوں کی کمی پونے سینتالیس ہے- اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی زیادتی چھیالیس ہے- اور سکھوں کی زیادتی ۴/۱ نشست کی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں نے بھی ہندؤوں کا حق چھینا ہے - اور سکھوں نے بھی ہندؤوں کا- حالانکہ اگر اقلیت پر اکثریت کے غلبہ کا سوال ہوتا تو سکھ زیادہ نقصان میں رہتے، کیونکہ ان کی اقلیت بہت کم ہے- اور ہندؤوں سے قریباً آدھی ہے- پس ان اعداد سے یہ نتیجہ کسی صورت میں بھی نہیں نکالا جا سکتا کہ مسلمانوں نے اپنی طاقت سے یہ غلبہ حاصل کیا ہے- بلکہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہندؤوں کو ڈسٹرکٹ بورڈوں کے انتظام کے ساتھ کوئی خاص انٹرسٹ (INTEREST) نہیں ہے- اور جب یہ امر بالبداہت ثابت ہوتا ہے کہ ہندؤوں کی کمزوری ڈسٹرکٹ بورڈ میں بوجہ ان کی رغبت کی کمی کے ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ کونسلوں میں بھی