انوارالعلوم (جلد 10) — Page 447
۴۴۷ اور ہندو اپنی قوم کو یہ کہے کہ میں ہندو ہوں، مجھے ووٹ دو- اور مسلمان کہے کہ میں مسلمان ہوں مجھے ووٹ دو- لیکن جس جگہ قانون مذہب کا فیصلہ کر چکا ہو، وہاں تو یہ سوال اٹھ ہی نہیں سکتا- وہاں تو سوال یا فرقہ کا اٹھ سکتا ہے کہ امیدوار سنی ہے یا شیعہ یا پھر سیاسی نقطہ نگاہ کا سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ مختلف امیدواروں کے سیاسی خیالات کیا ہیں- اور یہ یقینی بات ہے کہ محفوظنشست کی صورت میں اسی سوال کو انتخاب میں اہمیت حاصل ہوگی- اور اگر بجائے جداگانہانتخاب کے مخلوط انتخاب ہو تو اس صورت میں اور بھی یقین ہو جاتا ہے کہ سوائے سیاسی سوال کے کوئی اور سوال نہ اٹھے گا کیونکہ مختلف ممبروں کو ہندوؤں کے ووٹوں کی بھی ضرورت ہوگی- پس وہ مجبور ہونگے کہ مذہبی سوال کو درمیان میں نہ آنے دیں تا کہ ان کا مدمقابل دوسری قوموں کے ووٹوں سے فتح نہ لے- دوسرے یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ انتخابوں میں ایک ہی امیدوار نہیں ہوا کرتا، بلکہ کئی امیدوار ہوتے ہیں- پس یہ خیال کرنا کہ جو کھڑا ہوگا، وہ اسلامی امیدوار ہونے کی صورت میں کھڑا ہوگا اور اس طرح قومی منافرت بڑھے گی، درست نہیں- کیونکہ ایک ہی وقت میں کئی امیدوار کھڑے ہو کر سب یہی دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وہ مسلمان ہیں- اس لئے انہیں ووٹ دیا جائے- انہیں دوسرے امور پیش کرنے ہونگے اور وہ سیاسی ہونگے- اور اگر یہ کہا جائے کہ ممکن ہے کہ کوئی امیدوار بھی ایسا نہ ہو- جو ہندو نقطہ نگاہ کے ساتھ متفق ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس جگہ ایک شخص بھی مسلمانوں میں سے ایسا نہ ہوگا- جو سیاسی خیالات میں وہاں کے ہندوؤں سے متفق ہو تو یہ کس طرح امید کی جا سکتی ہے کہ وہاں سے اگر ہندو کھڑا ہو تو اسے مسلمان جائز طور پر ووٹ دے دیں گے- میں نے جائز کی شرط اس لئے لگائی ہے کہ ووٹنگ مخفی ہوتی ہے- اس لئے یہ بالکل ممکن ہے کہ ناجائز ذرائع سے مسلمانوں سے ووٹ لے لئے جائیں اور وہ قومی غداری کرنے پر اس لئے تیار ہو جائیں کہ ان کا راز فاش نہ ہوگا- لیکن ایسے ووٹوں سے چنا ہوا شخص ملک کا نمائندہ نہیں ہوگا، بلکہ ہوا و ہوس کا نمائندہ ہوگا- دوسری دلیل کا ردّ ۱ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر اکثریت کی نشستیں محفوظ کر دی جائیں تو منافرت قومی دور نہ ہوگی- کیونکہ اکثریت اقلیت کی محتاج نہیں رہے گی- اس کا ایک تو یہ جواب ہے کہ اسی حالت کو ایک اور نگاہ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور وہ