انوارالعلوم (جلد 10) — Page 441
۴۴۱ جاتے ہیں تو آئندہ کیوں نہ ملیں گے- کونسی عقل یہ تجویز کر سکتی ہے کہ مسلمان سب کے سب سیاست میں ایک خیال کے رہیں گے- اور اگر وہ ایک خیال کے نہیں رہیں گے تو پارٹیوں کے بننے پر یقیناً کوئی خالص اسلامی پارٹی پنجاب اور بنگال میں حکومت نہیں کر سکے گی- بلکہ حکومت کیلئے ہندو عنصر کی شمولیت ضروری ہوگی- پس ڈومینیشن )DOMINATIONکا سوال ہر گز یہاں پیدا ہی نہیں ہوتا- اور نہرو کمیٹی نے فرقہ وارانہ خیالات سے شدید تاثر کی وجہ سے مسلمانوں کی طرف وہ بات منسوب کر دی ہے- جو ان کے مطالبہ میں شامل نہیں بلکہ خود نہروکمیٹی کے ممبروں کے دماغ سے نکلی ہے- حق یہ ہے کہ تسلط تو ہندو اکثریت والے صوبوں میں ہو سکتا ہے اور ہوگا- کیونکہ وہاں اکثریت اس قدر زیادہ ہے کہ ہندوؤں کی کئی پارٹیاں ہو کر بھی غالب گمان ہے کہ کوئی خالص ہندو پارٹی ہی حکومت کیا کرے گی- ہاں صوبہ سرحدی اور سندھ وغیرہ میں مسلمانوں کو بھی یہ موقع حاصل ہوگا مگر وہ صوبے بالکل چھوٹے ہیں اور ہندوستان کے عام معاملات پر کوئی زیادہ اثر نہیں ڈال سکتے- چوتھی دلیل اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کا نیابت کی اکثریت پر زور دینا اور بہت سے معقول دلائل سے بھی ضروری ثابت ہوتا ہے- میں یہ تو ثابت کر چکا ہوں کہ بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کی اس قدر اکثریت نہیں کہ اس کے حقوق محفوظ ہو جانے پر بھی وہ اکیلے حکومت کر سکیں- بلکہ ان دونوں صوبوں میں یقیناً ایسی پارٹیاں حکومت کریں گی جن میں ایک حد تک ہندو عنصر شامل ہوگا- مگر باوجود اس کے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ چونکہ مسلمانوں کو نیابت میں کثرت حاصل ہوگی، جو حکومت بھی ان صوبوں میں قائم ہوگی اس میں ایک کافی حصہ اسلامی عنصر کا ہوگا- جسے ان صوبوں کی آئندہحکومت کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کر سکے گی- اس امر کی وضاحت کے بعد اب یہ سوچنا چاہئے کہ فرقہ وارانہ خیالات کو جانے دو، قومی نقطہ نگاہ سے کیا یہ بات ملک کے لئے مفید ہو سکتی ہے کہ ملک کے اداری ) ADMINISTRATION)حصہ میں مسلمانوں کی آواز بالکل نہ ہو یا ایسی کم ہو کہ نہ ہونے کے برابر ہو- کونسا سیاست کا طالبعلم نہیں جانتا کہ عمدہ حکومت عمدہ قانونوں پر ہی نہیں چلتی بلکہ قوانین کے اچھے استعمال کی بھی ویسی ہی ضرورت ہوتی ہے- اب یہ ظاہر ہے کہ ہندوستان جس کی حکومت صوبوں میں تقسیم ہو گی- جس طرح اس کے لئے ایک مرکزی مجلس قوانین کی ضرورت ہوگی- اسی طرح اس کے لئے یہ بھی