انوارالعلوم (جلد 10) — Page 436
۴۳۶ تیسری دلیل تیسری دلیل پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کے لئے محفوظ نشستوں کا حق مقرر کرنے کے بارہ میں یہ ہے کہ ہندوستان کے آٹھ بڑے صوبوں میں سے چھصوبے ایسے ہیں کہ جن میں ہندو زیادہ ہیں- اور لازماً وہاں تہذیب اور تمدن کا رنگ غالب ہوگا- ہندوؤں کی زیادتی وہاں ایسی ہے کہ مسلمان کبھی بھی حکومت پر قادر نہیں ہو سکتے- دو ہی صوبے ہیں کہ جن میں مسلمان زیادہ ہیں- لیکن ان میں مسلمانوں کی اکثریت ایسی نہیں کہ یہ یقین کیا جائے کہ مسلمان ہی ہمیشہ حاکم ہونگے اور اپنی روایات کے مطابق ترقی کر سکیں گے- پس مسلمان چاہتے ہیں کہ ان دو صوبوں میں اس امر کا دروازہ کھلا رہے کہ وہ اپنی روایات کے مطابق نشوونما پائیں- اور اس کی صورت سوائے محفوظ نشستوں کے اور کوئی نظر نہیں آتی- اس میں کوئی شک نہیں کہ جب نشستیں محفوظ نہ ہوں تو ایک قوم اپنے حق سے زیادہ بھی لے سکتی ہے- مگر یہ بھی تو ممکن ہے کہ اپنے حق کو بھی کھو بیٹھے- اور جس وقت آبادی کا فرق اس قدر کم ہو جیسا کہ پنجاب اور بنگال میں ہے- اور اقلیت ایسی مضبوط ہو جیسے کہ ہندو ہیں تو خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے- نہرو رپورٹ والے خود تسلیم کرتے ہیں کہ پنجاب میں مسلمانوں کی اقلیت ہو جانے کا خوف ہے- وہ لکھتے ہیں کہ-: ‘’خواہ کچھ بھی ہو(پنجاب کے) مسلمان اس قدر نشستیں ضرور حاصل کر لیں گے کہ اگر ان کی اکثریت نہ ہو تو کم سے کم ایسی مضبوط اقلیت ضرور ہوگی جو اکثریت سے کچھ ہی کم ہوگی’‘- ۵۳؎ مسلمان یہی کہتے ہیں کہ صرف دو صوبے ہیں جن میں ہماری اکثریت ہے- اور ہم اس خطرہ میں نہیں پڑنا چاہتے کہ ہماری اکثریت ایسی اقلیت ہو جائے کہ جو اکثریت سے کچھ ہی کم ہو- مسلمانوں کے اس قسم کے خیالات کا نہرو رپورٹ میں بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس میں لکھا ہیکہ-: ‘’مسلمان چونکہ سارے ہندوستان کو مدنظر رکھتے ہوئے اقلیت ہیں وہ خوف کرتے ہیں- کہ اکثریت انہیں دق نہ کرے اور اس مشکل کو دور کرنے کیلئے انہوں نے ایک عجیب طریق ایجاد کیا ہے- اور وہ یہ کہ کم سے کم بعض حصحص ہندوستان میں وہ غالب رہیں- ہم اس جگہ ان کے مطالبہ پر تنقید نہیں کرتے- اس موجودہ تفرقہ کے زمانہ