انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 424

۴۲۴ ہو تو وہ صوبہ آزاد کس طرح کہلا سکتا ہے- اصل چیز جس کے لئے الگ حکومتیں قائم کی جاتی ہیں وہ تو ہے ہی اقتصادی اور تمدنی آزادی- سیاست تو اس آزادی کے حصول کا ذریعہ ہے- چونکہ آزاد سیاست کے بغیر آزاد اقتصادی نشوونما حاصل نہیں ہوتی- اس لئے لوگ آزاد سیاست کی جستجو کرتے ہیں- پس اقتصادی زندگی کو کسی دوسرے صوبہ کے ساتھ وابستہ کرنے کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ اسے آزادی نہ دی جائے- میں افسوس سے اس امر کا اظہار کرنے پر مجبور ہوں کہ سندھ کے سوال پر جو کچھ کمیشن نے لکھا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے تو سندھ کو مالی سوال پر آزادی سے محروم کیا جائے گا- اگر وہاں کے لوگ مالی بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہوئے تو پھر ایسی وزنی مشینری حکومت کی ان کے سامنے پیش کی جائے گی جسے وہ قبول نہ کر سکیں- اور جب سندھ مایوس ہو جائے گا تو اس وقت اس کے سامنے وہ تجویر پیش کی جائے گی- جس کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ-: ‘’ہمیں یہ بھی کہہ دینا چاہئے کہ ایک صوبہ کی علیحدگی کے یہ معنی نہیں کہ ضرور اس کی اقتصادی زندگی بھی علیحدہ کر دی جائے- نہ اس کے یہ معنی ہیں کہ سب اعضائگورنمنٹ اس کے لئے بنائے جائیں- مثلاً یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک ہائیکورٹ ایک سے زیادہ صوبوں کا کام کرے’‘- ۴۵؎ اور یہ بات ظاہر ہے- کہ ایک مایوس شدہ صوبہ جب ساری نہ ملے گی تو آدھی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا اور سندھ کی حکومت ایک نیم آزاد صوبہ کی سی قرار پا جائے گی- بنگال میں مسلمانوں کی میجارٹی کس طرح توڑی جائے گی میں پہلے اشارہ کر چکا ہوں کہ نہرو کمیٹی نے بنگال میں مسلمانوں کی میجارٹی )MAJORITY) کو توڑنے کا بھی ایک دروازہ کھلا رکھا ہے- اب میں اس پر کسی قدر روشنی ڈالتا ہوں- رپورٹ کے صفحہ۶۳ پر لکھا ہے- ‘’ہمارے شریک کار مسٹر سوباش چندرا بوس تسلی ظاہر کرتے ہیں کہ اڑیا بولنے والے علاقے آپس میں ملا دینے چاہئیں- اور اگر مالی طور پر ممکن ہو تو ان کا ایک جدا گانہ صوبہ بنا دینا چاہئے اسی طرح ان کی رائے یہ بھی ہے کہ آسام، اڑیسہ اور بہار میں