انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 412

۴۱۲ حالات کی موجودگی میں کوئی مسلمان جو اپنے ہوش و حواس میں ہو، اسلام کے فوائد کو بغیر معقول گارنٹی )GUARANTEE) کے مہمل چھوڑ سکتا ہے- اگر کوئی ایسا کرے گا تو آئندہ نسلیں اس پر لعنت کریں گی اور وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں ایک مجرم کی حیثیت میں پیش کیا جائے گا- مسلمانوں کا پہلا مطالبہ ہندوستان کے لئے فیڈرل حکومت جیسا کہ میں بتا چکا ہوں مسلمانوں کا پہلا مطالبہ فیڈرل حکومت کا ہے یعنی اختیاراتحکومت صوبہ جات کو ملیں جنہیں کامل خود اختیاری حکومت حاصل ہو- مرکزی حکومت کو صرف وہی کام صوبہ جات کی طرف سے تفویض ہوں جن کا مرکزی حکومت کو دیا جانا ضروری ہو اور جن اختیارات کا قانون اساسی میں ذکر نہ ہو وہ صوبہ جات کے سمجھے جائیں- اور ضرورت پیش آنے پر صوبہ جات وہ اختیار خاص قانون کے ماتحت مرکزی حکومت کو دے سکتے ہیں- مرکزی حکومت کو کسی صورت میں صوبہ جات کی حکومت کے کاموں میں دخل دینے کا حق حاصل نہ ہو- یہ مطالبہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں سب مسلمانوں کا ہے- کم سے کم دونوں مسلم لیگوں کا یہ مطالبہ ضرور ہے- اس مطالبہ کو نہرو کمیٹی نے کلی طور پر مسترد کر دیا ہے- اور بجائے فیڈرل حکومت کے مرکزی حکومت کے طریق کو منظور کیا ہے- یعنی ان کی تجویز کی رو سے ہندوستان کی حکومت کے اختیار مرکزی پارلیمنٹ کو دیئے گئے ہیں اور ان کی طرف سے بعض اختیارات صوبہ جات کو عطا کئے گئے ہیں- مسلمانوں کے مطالبہ اور نہرو رپورٹ کی تجویز میں فرق مسلمانوں کے مطالبہ اور اس تجویز میں فرق یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے مطالبہ کے مطابق حکومت قائم کی جاتی تو حکومت ہند کو صوبوں کی حکومتوں کے کام میں دخل دینے کا اختیار نہیں رہتا تھا- دوسرے یہ اختیار بھی نہیں رہتا تھا کہ وہ کسی صوبہ کے اختیار چھین سکے- تیسرے اگر کوئی نیا کام نکلے تو اس پر مرکزی حکومت کو حق حاصل نہیں ہوتا تھا- بلکہ ہر نئے کام کا حق صوبہ جات کی حکومت کو حاصل ہوتا تھا- اگر وہ چاہتے تو کثرت رائے سے مقررہ قواعد کے مطابق اسے مرکزی حکومت کے سپرد کر سکتے تھے- نہرو کمیٹی کی تجویز کے مطابق مرکزی حکومت کو صوبہ جات کے کاموں میں دخل دینے کا پورا اختیار ہے- وہ جب چاہے کسی صوبہ کے اختیار کو چھین لے- اور اس کی حکومت کا کوئی اور انتظام کر