انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 358

۳۵۸ (UNITYCONFERENCE) میں دیکھا کہ مجتمع شدہ لوگوں میں سے بھی بعض کو بعض لوگ ڈانٹتے تھے کہ اپنے لیڈروں کی قدر کیوں نہیں کرتے اور ان کی بات کیوں نہیں مانتے- میرا دل کئی بار چاہا کہ پوچھوں کہ کیوں صاحب ان بعض احباب کو باقی لیڈروں کا لیڈر کس نے بنایا ہے مگر آداب مجلس کی وجہ سے خاموش رہا- مگر میں نے اس بنا پر شملہ میں ایک لیکچر دیا اور اس میں یہ بیان کیا کہ ہندوستان لیڈروں کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ پیروؤں کی کمی کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے- ہر اک جو سیاست میں کچھ حصہ لیتا ہے اپنے آپ کو لیڈر سمجھنے لگتا ہے- اور کبھی خیال نہیں کرتا کہ میرے پیچھے کوئی جماعت ہے بھی یا نہیں- سائمن کمیشن کی آمد پر جو میں نے ٹریکٹ شائع کیا تھا- اس وقت بھی میں نے لکھا تھا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شہر اور قصبہ میں مسلمان اپنی انجمنیں بنائیں اور تمام مختلف الخیال مسلمانوں کو اس کا ممبر بنائیں اور پھر ہر ایک تجویز کے متعلق ہر شہر اور قصبہ سے آواز بلند ہو تا کہ معلوم ہو سکے کہ مسلمانوں کی عام رائے کیا ہے- اور بعض بلند آہنگ لوگ اپنی رائے کو مسلمانوں کی رائے نہ قرار دے سکیں- آل انڈیا کانفرنس یا نہرو کمیٹی ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندہ نہ تھی اب میں پھر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں کہ نہ آل انڈیا کانفرنس ہندوستان کی نمائندہ تھی اور نہ نہروکمیٹی مسلمانوں کے کسی فریق کی ہی نمائندہ تھی- ایک خاص خیال کے لوگوں کی ایک کانفرنس ہوئی- اور اس میں سے بھی مسلمانوں کی نیابت کو عملاً خارج کر کے ایک کمیٹی مقرر کر دی گئی- جس کی رپورٹ اب ہندوستان کے نمائندوں کی رپورٹ کے نام سے مشہور کی جا رہی ہے- کہا جا سکتا ہے کہ نہرو کمیٹی یا آل پارٹیز کانفرنس سب فرقوں اور جماعتوں کی نمائندہ نہ سہی لیکن اگر وہ ایک ایسی رپورٹ پیش کرتی ہے جس میں مختلف اقوام کے حقوق کی نگہداشت کر دی گئی ہے تو کیا اسے روک دیا جائے گا- میں کہتا ہوں کہ ہر گز نہیں- اگر وہ رپورٹ ایسی ہی ہے تو ہم اسے ضرور قبول کریں گے- لیکن ہماری بے اعتباری جو اس وقت تک ہندو مسلم فسادات کا سب سے بڑا موجب ہے اور بھی بڑھ جائے گی اور ہمارے دل ضرور یہ کہیں گے کہ جب قانون اساسی کے بناتے ہوئے مسلمانوں کی نیابت کا خیال نہیں رکھا گیا تو آئندہ چھوٹے