انوارالعلوم (جلد 10) — Page 337
۳۳۷ ‘’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے-ولکن رسول اللہ و خاتم النبین اور حدیث میں ہے-لا نبی بعدی اور بایں ہمہ حضرت مسیح کی وفات نصوص قطعیہ سے ثابت ہو چکی- لہذا دنیا میں ان کے دوبارہ آنے کی امید طمع خام- اور اگر کوئی اور نبی نیا یا پرانا آوے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر خاتم الانبیاء رہیں’‘-۸؎ ‘’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ہی چاہتا ہے- کیونکہ آپ کے بعد اگر کوئی دوسرا نبی آ جائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے- اور نہ سلسلہ وحی نبوت کا منقطع متصور ہو سکتا ہے- اور اگر فرض بھی کر لیں کہ حضرت عیسیٰ امتی ہو کر آئیں گے تو شان نبوت تو ان سے منقطع نہیں ہوگی- گو امتیوں کی طرح وہ شریعت اسلام کی پابندی بھی کریں- مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا تعالیٰ کے علم میں نبی نہیں ہوں گے- اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں وہ نبی ہوں گے تو وہی اعتراض لازم آیا کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نبی دنیا میں آگیا اور اس میں آنحضرت صلعم کی شان کا استخفاف ہے اور نص ِّصریح قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے’‘- ۹؎ قولہ: مسیح نبی ہو کر نہیں آئے گا- امتی ہو کر آئے گا- مگر نبوت اس کی شان میں مضمر ہوگی- اقول: جب کہ شان نبوت اس کے ساتھ ہوگی اور خدا کے علم میں وہ نبی ہوگا تو بلاشبہ اس کا دنیا میں آنا ختم نبوت کے منافی ہوگا’‘- ۱۰؎ ‘’قرآن شریف جیسا کہ آیت الیوم اکملت لکم دینکم اور آیت ولکن رسول اللہ و خاتم النبین میں صریح نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں جیسا کہ فرمایا ہے کہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبین لیکن وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں واپس لاتے ہیں ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیں گے اور برابر پینتالیس برس تک ان پر جبرئیل علیہالسلام وحی نبوت لیکر نازل ہوتا رہے گا- اب بتلاؤ کہ ان کے عقیدہ کے موافق ختم نبوت اور ختموحی نبوت کہاں باقی رہا- بلکہ ماننا پڑا کہ خاتم الانبیاء حضرت عیسیٰ