انوارالعلوم (جلد 10) — Page 321
۳۲۱ اعوذ بالله من الشيطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ – هوالناصر ’’پیغامِ صلح‘‘ کا نام جنگ (تحریر فرموده ۱۸ جولائی ۱۹۲۸ء) برادران! آپ لوگ جانتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ آپس کے جھگڑوں کو ناپسند کیا ہے اور ان کے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن باوجود اس کے غیر مبائعین کے متعرف گروہ کی طرف سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور گندے اور غیر شریفانہ پیرایہ میں یہ لوگ مجھ پر اور جماعت احمدیہ پر اعتراض کرتے رہتے ہیں گویا کہ ان کے سینے ایک ذخیرہ ہیں حاسدانہ خیالات کا اور ایک سمندر ہیں غضب و غصہ کے احساسات کا- آپ کو یاد ہو گا کہ ۱۹۲۶ء میں جب میں ڈلہوزی آیا تو بعض دوستوں نے تحریک کی کہ ان جھگڑوں کو بند کرنا چاہئے- اس پر میں نے ان سے کہا کہ ہم تو ہمیشہ مدافعانہ لکھتے ہیں اور وہ بھی بہت کم لیکن ابتداء تو دوسرے فریق ہی کی طرف سے ہوتی ہے- پس اس کا فیصلہ کر لیا جائے کہ زیادتی کس کی ہے- مگر ان لوگوں نے کہا کہ پچھلے جھگڑے کو جانے دیا جائے اور اس شرط پر صلح کر لیجئے کہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کچھ نہ لکھا جائے گا- میں نے اس امر کو منظور کر لیا اور آپس میں ایک تحریر لکھی گئی جو ’’الفضل اورپیغام صلح‘‘ دونوں میں شائع کر دی گئی- اس تحریر کی اشاعت کے بعد خلاف معاہدہ پیغام صلح میں جماعت کے خلاف عموماً اور میری ذات کے خلاف خصوصاً مضامین شائع ہوتے رہے حالانکہ اس معاہدہ سے بالخصوص ذاتی جھگڑوں کو روکنا مدنظر تھا- میں برابر اس وعدہ خلافی کو دیکھ کر خاموش رہا حتیٰکہ جب بات انتہا کو پہنچ گئی تو میں