انوارالعلوم (جلد 10) — Page 180
۱۸۰ بالکل تلف کئے جاتے تھے مثلاً (۱)ورثہ نہیں ملتا تھا (۲)پردہ میں سختی کی جاتی تھی- چلنے پھرنے تک سے روکا جاتا تھا- (۳)علم سے محروم رکھا جاتا تھا- (۴)سلوک اور مراعات سے محروم رکھا جاتا تھا (۵)نکاح کے متعلق اختیار نہیں دیا جاتا تھا- (۶)خلع اور طلاق میں سختی کی جاتی تھی- (۷)حقوق انسانیت کا لحاظ نہیں رکھا جاتا تھا- آپ نے ان سب کی اصلاح کی- (۱)ورثہ سے محروم رکھنے کو آپ نے سختی سے روکا اور عورتوں کے اس حق کی تائید کی- چنانچہ ہمارے گھر میں کہ جہاں پشتوں سے عورتوں کا حق نہ دیا گیا تھا- ہماری بہنوں کو زمینداری کے پورے حقوق ملے اور وہ ہمارے ساتھ آپ کی جائیداد کی وارث ہوئیں- (۲)پردہ میں جو ظاہری سختی کی جاتی تھی، اسے دور کیا- آپ (حضرت اماں جان) کو ساتھ لے کر سیر کو جایا کرتے- ایک دفعہ آپ ایک سٹیشن پر (حضرت اماں جان) کو ساتھ لے کر ٹہل رہے تھے- مولوی عبدالکریم صاحب کو یہ بہت ناگوار گذرا- کیونکہ اس زمانہ میں بڑی شرم کی بات اور عیب سمجھا جاتا تھا کہ عورت ساتھ ہو- وہ حضرت خلیفہ اول کے پاس آئے اور کہا- حضرت صاحب بیوی صاحبہ کو ساتھ لے کر ٹہل رہے ہیں- لوگ کیا کہیں گے- آپ جا کر حضرت صاحب سے کہیں کہ بیوی صاحبہ کو بٹھا دیں- حضرت خلیفہ اول نے کہا- آپ خود جاکر کہیں میں تو نہیں کہہ سکتا- آخر آپ گئے اور پھر سر نیچے ڈالے ہوئے آئے- حضرت خلیفہ اول نے پوچھا حضرت صاحب نے کیا جواب دیا- کہنے لگے- جب میں نے کہا لوگ اس طرح ٹہلنے پر اعتراض کریں گے- تو آپ ٹھہر گئے اور فرمایا لوگ کیا اعتراض کریں گے کیا یہ کہیں گے کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لے کر ٹہل رہے تھے؟ غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عورتوں کی صحت کی درستی کے لئے ان کے چلنے پھرنے کی آزادی دی اور آج گو تعلیم یافتہ طبقہ اس تغیر کو نہیں سمجھ سکتا- لیکن جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کام کو شروع کیا تھا اس وقت یہ بات حیرت انگیز تھی- آپ نے بتایا کہ پردہ کی غرض بعض کمزوریوں سے بچانا ہے اور اس کے علاوہ عورتوں کو مردوں سے آزادانہ میل جول رکھنے سے روکا گیا ہے نہ کہ عورتوں کو قید میں ڈالے رکھنے کا حکم دیا ہے- (۳)تیسرے عورتوں کو علم سے محروم رکھا جاتا تھا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عورتوں کو علم پڑھانے پر خصوصیت سے زور دیا- چنانچہ آپ نے ایک دوست کو