انوارالعلوم (جلد 10) — Page 148
۱۴۸ نہ ہوں گے- مگر قیامت کو اونٹنی کیا کوئی چیز بھی کام نہ آئے گی- بات یہ ہے کہ چونکہ یہ کلام پیشگوئی پر مشتمل تھا- اور اس زمانہ کے لوگوں کے سامنے وہ حالات نہ تھے جو اس کے صحیح معنے کرنے میں ممد ہوتے اس لئے انہوں نے اسے قیامت پر چسپاں کر دیا- اصل میں یہ آخری زمانہ کے متعلق خبر تھی کہ اس وقت ایسی سواریاں نکل آئیں گی کہ اونٹ بے کار ہو جائیں گے- وہ مولوی جو حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام کی ہر ایک بات کی مخالفت کرتے ہیں ان کو بھی اگر موٹر کے مقابلہ میں اونٹ کی سواری ملے تو کبھی اس پر سوار نہ ہوں- اسی طرح مثلاًو اذا الوحوش حشرت ۱۵؎کی پیشگوئی ہے یعنی وحوش جمع کر دیئے جائیں گے یعنی چڑیا گھر بنائے جائیں گے- چنانچہ اس زمانہ میں یہ پیشگوئی پوری ہو گئی- اسی طرح اس کا یہ بھی مطلب تھا کہ پہلے زمانہ میں قوموں کو ایک دوسرے سے وحشت تھی- آپس میں تنفر تھا- اب ایسا وقت آیا کہ ایک دوسرے سے تار اور ریل اور جہازوں کے ذریعہ ملنے لگ گئے ہیں- اسی طرح یہ پیشگوئی تھی کہ واذا البحار سجرت ۱۶؎کہ دریا خشک ہو جائیں گے اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ قیامت کے دن زلزلے آئیں گے اس وجہ سے دریا سوکھ جائیں گے حالانکہ قیامت کے دن تو دنیا نے ہی تباہ ہو جانا تھا دریاؤں کے سوکھنے کا کیا ذکر تھا- حضرتمسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا مطلب بتایا کہ دریاؤں کے سوکھنے سے مراد یہ تھی کہ ان میں سے نہریں نکالی جائیں گی- اسی طرح یہ پیشگوئی تھی کہواذا النفوس زوجت ۱۷؎ مختلف لوگوں کو آپس میں ملا دیا جائے گا- اس کے یہ معنی کئے جاتے تھے کہ قیامت کے دن سب لوگوں کو جمع کر دیا جائے گا- مرد و عورت اکٹھے ہو جائیں گے- حالانکہ قیامت کے دن تو اس زمین نے تباہ ہو جانا تھا- اس میں لوگوں کے اکٹھے ہونے کی کیا صورت ہو سکتی تھی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی تشریح یہ فرمائی کہ ایسے سامان اور ذرائع نکلنے کی اس آیت میں پیشگوئی کی گئی تھی جن کے ذریعہ سے یہاں بیٹھا ہوا شخص دور دراز کے لوگوں سے باتیں کر سکے گا- اب دیکھ لو- ایسا ہی ہو رہا ہے یا نہیں- اسی طرح آپ نے قرآن کریم کی مختلف آیات سے ثابت کیا کہ ان میں صحیح علوم طبعیہ کا ذکر موجود ہے- مثلاًوالشمس وضحھا والقمر اذا تلھا ۱۸؎کی آیت میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ چاند اپنی ذات میں روشن نہیں بلکہ سورج سے روشنی لیتا ہے-