انوارالعلوم (جلد 10) — Page 127
۱۲۷ وقت میں قھار بھی ہے اور رحیم بھی- چونکہ قرآن میں خدا تعالیٰ کی ایسی صفات آئی ہیں جو بظاہر آپس میں مخالفت رکھتی ہیں اس لئے وہ لوگ حیران تھے- (۹)بعض لوگ اس خیال میں پڑے ہوئے تھے کہ ہر چیز خدا ہی خدا ہے اور بعض اس وہم میں پڑے ہوئے تھے کہ ایک تخت ہے، خدا تعالیٰ اس پر بیٹھا ہوا حکم کرتا ہے- (۱۰)خدا تعالیٰ کی طرف توجہ ہی نہیں رہی تھی- حتی کہ جب کوئی مکان یا گھر ویران ہو جاتا تو کہتے کہ اب تو اس میں اللہ ہی اللہ ہے- یا کسی کے پاس کچھ نہ رہتا تو کہا جاتا کہ اب تو اس کے پاس اللہ ہی اللہ ہے جس کا یہ مطلب تھا کہ خدا تعالیٰ بھی ایک خلو ہی کا نام ہے- خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے ملنے کی تڑپ بالکل مٹ گئی تھی- جنوں اور بھوتوں کی ملاقات، عمل حب اور عمل بغض کی خواہش تو لوگوں میں تھی- لیکن اگر نہ تھی تو خدا تعالیٰ کی ملاقات کی خواہش نہ تھی- ان اختلافات کے طوفان کے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ظاہر ہوئے اور آپ نے ان سب غلطیوں سے مذہب کو پاک کر دیا- سب سے پہلے میں شرک کو لیتا ہوں- آپ نے شرک کو پورے طور پر رد کیا اور توحید کو اپنے پورے جلال کے ساتھ ظاہر کیا- آپ سے پہلے مسلمان علماء تین قسم کا شرک مانتے تھے-(۱)بتوں، فرشتوں اور معین چیزوں کی عبادت کرنا- مگر باوجود اس کے عوام تو الگ رہے علماء تک قبروں پر سجدے کرتے تھے لکھنؤ میں ایک بڑے مولوی کو میں نے قبر پر سجدہ کرتے بچشم خود دیکھا ہے- (۲)علماء تسلیم کرتے تھے کہ کسی میں خدائی صفات تسلیم کرنا بھی شرک ہے مگر یہ صرف منہ سے کہتے تھے بڑے سے بڑے توحید پرست وہابی بھی حضرت مسیحؑ کو ایسی صفات دیتے تھے جو خدا سے ہی تعلق رکھتی ہیں- مثلاً یہ کہتے کہ وہ آسمان پر کئی سو سال سے بیٹھے ہیں- نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں نہ ان پر کوئی تغیر آتا ہے- اور یہ بھی مانتے ہیں کہ بعض انسانوں نے مردے زندہ کئے تھے اور مسیح نے تو علاوہ مردے زندہ کرنے کے پرندے بھی پیدا کئے تھے- (۳) بڑے بڑے عالم اور دین کے ماہر یہ مانا کرتے تھے کہ چیزوں پر اتکال کرنا یعنی یہ سمجھنا کہ کوئی چیز اپنی ذات میں فائدہ پہنچا سکتی ہے یہ بھی شرک ہے- مثلاً اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ فلاں دوائی بخار اتار دے گی تو وہ شرک کرتا ہے- اصل میں یوں سمجھنا چاہئے کہ فلاں دوائی خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے اثر سے فائدہ دے گی- کیونکہ جب تک ہر چیز میں خدا کا ہی جلوہ نظر