انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 112

۱۱۲ کر کے پیش کرنے سے وہ اثر نہیں پیدا کر سکتی جو مجموعی طور پر پیش کرنے سے ہو سکتا ہے- دیکھو اگر کسی خوبصورت سے خوبصورت انسان کا ناک کاٹ کر لے جائیں اور پوچھیں یہ ناک کیسا خوبصورت ہے؟ تو کوئی اس کی خوبصورتی کا اعتراف نہ کرے گا- اسی طرح اگر کسی خوبصورت انسان کا کان کاٹ کر لے جائیں اور جا کر پوچھیں- یہ کیسا خوبصورت ہے تو اس کی خوبصورتی کا کوئی اثر نہ ہوگا- ہاں سارے اعضاء مل کر متحدہ شکل میں دل پر اثر کرتے ہیں- اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ کے متعلق بھی ہم کو مجموعی رنگ میں غور کرنا چاہئے- اور پھر دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے سچے ثابت ہوتے ہیں یا نہیں- آج ہی ایک دوست نے جو غیر احمدی ہیں مجھے لکھا کہ ہم لوگ یہاں آتے تو اس لئے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کے متعلق سنیں- مگر اس کے متعلق جلسہ میں مضمون کم رکھے جاتے ہیں- ان کا یہ مطالبہ درست ہے- مگر ان کو اور دوسرے احباب کو یہ بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ یہ جلسہ جماعت کی تربیت کے لئے بھی ہوتا ہے- اس وجہ سے دونوں قسم کے مضامین ضروری ہوتے ہیں- مگر اتفاقی بات ہے کہ اس دفعہ میرے مضمون کا بھی یہی ہیڈنگ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے کیا کام کیا؟ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس وقت تک اس مسئلہ کے متعلق بہت بےپروائی سے کام لیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کاموں پر تفصیلی طور سے نظر نہیں ڈالی گئی- میں نے بار ہا لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ بتاؤ تو مرزا صاحب کے آنے کی ضرورت کیا تھی؟ اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ایک تفصیلی نظر ڈالیں تو وہ تمام باتیں موجود نظر آتی ہیں جن کے لئے آپ کا آنا ضروری تھا اور اس سوال کا جواب ایسا اہم اور اتنا وزنی ہے کہ اگر اسے بتفصیل بیان کیا جائے تو کوئی حق پسند اس کا انکار نہیں کر سکتا- یہ سوال ایسا اہم ہے کہ اس کے سمجھے بغیر کوئی سمجھدار شخص سلسلہ کی طرف مائل نہیں ہو سکتا- کیونکہ جب تک کسی کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام کی اہمیت کا نقش نہ جم جائے وہ آپ کی طرف توجہ کیونکر کر سکتا ہے؟ اس میں شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنیوالی تازہ صداقتیں اور نشانات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ خود اپنی ذات میں صداقت کا ثبوت ہوتے ہیں مگر جب تک ان کو بھی ایسے