انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 89

۸۹ کہ حکام کو توجہ دلائی گئی کہ یہ ہمیں مروا ڈالیں گے گویا اس اندھے کی طرح انہوں نے کارروائی کرنی شروع کر دی۔یہاں تک کہ محمد امین خان صاحب کو ان دنوں ایک جگہ تبلیغ کے لئے بھیجا گیا تو ان لوگوں میں سے ایک نے اپنے رشتہ داروں کو اطلاع کی کہ محمدامین خان فلاں کو مارنے کے لئے آرہا ہے احتیاط کی جائے۔جب میں شملہ سے واپس آیا تو ایک دن عشاء کی نماز کی سنتیں میں گھر میں پڑھنے لگا تھا کہ میاں عبدالوہاب حضرت خلیفہ اول کے لڑکے دوڑتے ہوئے آئے اور مجھے آوا ز دی اور بتایا کہ ان لوگوں میں اور محمد امین خان صاحب میں پرانی ہو گئی ہے اور جو واقعہ دیکھا تھا بتایا جس میں ان لوگوں کی زیادتی ثابت ہوتی تھی۔اسی وقت اتفاقاً ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب میری آنکھوں میں دوا لگانے کے لئے آگئے اور میں نے انہیں میاں بشیر احمد صاحب کے مکان پر بھیجا جہاں ایک کمیٹی ہو رہی تھی۔یہ سب احباب وہاں آگئے اور میں نے ان میں سے بعض کو کہا کہ محمد امین خان صاحب کو سمجھائیں کہ اگر کوئی سختی بھی کرے تو وہ برداشت کریں اور اگر ان میں جوش پایا جائے اور معلوم ہو کہ وہ نصیحت پر عمل نہیں کر سکتے تو اسی وقت انہیں قادیان سے باہر بھیج دیا جائے تاکہ فساد نہ پیدا ہو۔میں یہ بات کہہ ہی رہا تھا کہ اتنے میں باہر سے شور کی آواز آئی اور میں نے لوگوں کو بھیجا کہ باہر جا کر دیکھیں کیا ہوا ہے۔تھوڑی دم کے بعد میاں عبدالوہاب صاحب نےپھر آکر بتایا کہ محمد امین خان صاحب اور زاہد میں جو مستری فضل کریم کا لڑکا ہے پھر لڑائی ہو گئی ہے۔یہ سن کر میں نے اسی وقت مرزا عبدالحق صاحب مولوی عبد الغنی صاحب اور شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو مقرر کیا کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کریں۔جب انہوں نے تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ ان لوگوں نے ایک منصوبہ کیا ہوا تھا اور وہ سارے جتھہ بنا کر عشاء کے بعد اس گلی میں بیٹھے ہوئے تھے جس سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا اور جو محمد امین خان کے گھر کو جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ جب یہ لوگ افسروں کو اطلا عیں دے رہے تھے کہ ان کو مار ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے تو پھر اس جگہ عشاء کے وقت ان کے بیٹھنے کا کیا مطلب تھا جہاں انہیں کوئی کام نہ تھا اور پھر وہ میاں محمد امین خان کے مکان پر کیوں گئے تھے اس کے متعلق وہ کہتے ہیں ہم محمد امین کو سمجھانے کے لئے گئے تھے مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس سے انہیں خطرہ تھا کہ وہ ان میں سے کسی کو مار ڈالے گا۔اب قابل غور بات یہ ہے کہ کیا جس سے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کو مار ڈالے گا کیا اسے وہی لوگ سمجھانے جایا کرتے ہیں جنہیں خطرہ ہوتا ہے۔غرض یہ فتنہ ہے جو پچھلے دنوں میں اٹھا ہے مگر جو فتنہ پیدا ہونا ہوتا ہے اس کے متعلق خدا