انوارالعلوم (جلد 10) — Page 79
۷۹ طریق کو اختیار کیا جائے گا۔اگر اس طریق پر عمل کیا جائے تو پھر کسی مسودہ اور کسی قانون کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اس پر عمل کرنے میں کسی کا کوئی حرج بھی نہیں ہے کسی کی آزادی میں کوئی فرق نہیں آتا۔کیا اگر کسی کو کہا جائے کہ دوسروں کو گالیاں نہ دیا کرو تو کیا وہ کہے گا کہ اس طرح میری آزادی میں فرق آتا ہے۔یا اگر کسی کو کہا جائے کہ دوسروں پر پتھرنہ پھینکو تو کیا وہ یہ کہے گا کہ اگر پتھر نہ پھینکوں تو میری آزادی جاتی رہتی ہے۔پس مذہب کے متعلق یہ اقرار کر لینا کہ دوسرے مذہب کے عیب نہ بیان کئے جائیں گے یا دوسرے مذہب کی طرف عیب نہ منسوب کئے جائیں گے کوئی مصیبت نہیں ہے صرف ارادہ سے یہ بات تعلق رکھتی ہے۔اگر ارادہ کر لیا جائے کہ دوسرے مذاہب کے عیب نہ بیان کئے جائیں گے اور دوسرے مذہب کی طرف عیب نہ منسوب کئے جائیں گے تو اس میں کسی کا کوئی حرج نہیں ہے۔اسی طرح صلح کا ایک طریقہ بھی ہے کہ دوسروں کے مذہبی معاملات میں دخل نہ دیا جائے۔میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ہندوؤں کو اس سے کیا کہ مسلمان گائے ذبح کرتے ہیں یہ مسلمانوں کا کام ہے۔اگر بُراہے تو اس کا اثر مسلمانوں پر پڑے گا ہندووں کو مزا حم ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ورنہ ہو سکتا ہے کہ کل ہندو کہیں کعبہ کی طرف مسلمانوں کا منہ کر کے نماز پڑھنا ہمیں بُرا لگتا ہے اس لئے مسلمان نماز بھی نہ پڑھیں۔اگر کسی قوم کا کوئی مذہبی فعل پر بُرا لگنے سے ان لوگوں کا جنہیں بُرا لگے یہ حق ہو سکتا ہے کہ وہ اس میں مزاحم ہوں تو مسلمان بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ہندوؤں کا بتوں کی پوجا کرنا انہیں بُرا لگتا ہے اس لئے یہ کام ہندوؤں کو چھوڑ دینا چاہئے۔ہندو کہتے ہیں مسلمان بادشاہوں نے ہندوؤں کے بت توڑنے کا حکم دیا تھا مسلمانوں نے بت توڑے یانہ توڑے اس سوال کو جانے دو مگر اس اعتراض سے یہ تو ظاہر ہے کہ ہندوؤں کو بتوں کا توڑنا بُرا لگتا ہے اور وہ اپنے مذہب میں کسی کے دخل دینے کو ظلم قرار دیتے ہیں پھر وہ خود کیوں گائے کے معاملہ میں مسلمانوں کے مذہب میں دخل دیتے ہیں۔وہ لوگ جو اپنے مذہب کے کسی حکم کی یا اجازت پر عمل کرتے ہیں وہ اگر غلطی کرتے ہیں تو خدا انہیں سزا دے گا دوسروں کو ان کے مذہب میں دخل دینے کا کیا حق ہے کہ اپنے مذہب پر عمل کریں اور دوسروں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے دیں۔میرے نزدیک وہ لوگ جو سکھوں کے جھٹکہ کرنے پر ناراض ہوتے ہیں ان کی بھی نادانی ہے۔اگر سکھ جھٹکہ کر کے کھاتے ہیں تو ہمیں کیا اور اگر عیسائی سؤر کھاتے اور شراب پیتے ہیں تو ہمارا کیا حرج ہے ہر ایک کا اپنا اپنا مذہب ہے۔ہاں اگر کوئی اپنا ہم مذہب غلطی کرے اور مذہب کے خلاف بات