انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 65

۶۵ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلى على رسوله الكريم تقریر دلپذیر (فرموده مورخہ ۲۷دسمبر۱۹۲۷ء) سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حسب ذیل آیات پڑھیں: لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ- ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِوَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِۙ-لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ان آیات کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا مجھے نہایت افسوس ہے کہ اس دفعہ منتظمین جلسہ کی غلطی اور شدید غلطی کی وجہ سے جلسہ گاہ ایسی تنگ بنائی گئی ہے کہ باوجود اس کے کہ لوگ انتہائی تنگی سے بیٹھے ہوئے ہیں پھر بھی بہت سے لوگ ابھی دروازوں میں کھڑے ہیں اور بہت سے دروازوں سے باہر دُور تک باہر کھڑے نظر آرہے ہیں اور بہت سے جگہ نہ ملنے کی وجہ سے واپس لوٹے جارہے ہیں۔میں تعجب کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے اس الہام کے باوجود کہ "میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا" ۲؎ کے جلسہ گاہ بنانے والوں کو یہ کیوں خیال نہ آیا کہ اس سال لوگ گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ آئیں گے۔پچھلے سالوں میں یہ طریق رہا ہے کہ ہر سال پہلے سال کی نسبت جلسہ گاہ کو بڑھا دیا جاتا تھا اور ہزار پندرہ سو آدمیوں کی پہلے سال