اسماء المہدی علیہ السلام — Page 356
اسماء المهدی صفحہ 356 لولاک الهام "لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفَلَاک“ کے تذکرہ پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی کمال رضا جوئی کی حالت میں یہ طبقہ خدمت گزاران کا کولاک‘ کا حکم رکھتا ہے اور یہ بات صاف ہے کہ اگر یہ طبقہ لولاک کا نہ ہو تو افلاک کی خلقت عبث و فضول ہے۔افلاک کا بنانا محض اس طبقہ لولاک کی خاطر ہے۔“ یہ در اصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھا لیکن فلمی طور پر ہم 66 پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔( ملفوظات جدید ایڈیشن جلد 5، صفحہ 20-19) الہام لولاک کی تشریح کرتے ہوئے ایک اور موقعہ پر آپ نے فرمایا: لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاک میں کیا مشکل ہے؟ قرآن مجید میں ہے خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً زمین میں جو کچھ ہے وہ عام آدمیوں کی خاطر ہے۔تو کیا خاص انسانوں میں سے ایسے نہیں ہو سکتے کہ ان کے لئے افلاک بھی ہوں؟ دراصل آدم کو جو خلیفہ بنایا گیا تو اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ وہ اس مخلوقات سے اپنے منشاء کا خدا تعالیٰ کی رضامندی کے موافق کام لے اور جن پر اس کا تصرف نہیں۔وہ خدا تعالیٰ