اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 278 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 278

اسماء المهدی صفحہ 278 الصديق نُصِرْتَ بِالرُّعْبِ وَ أحْيَيْتَ بِالصِّدْقِ، أَيُّهَا الصِّدِّيقُ نُصِرْتَ“ تو رعب کے ساتھ مدد دیا گیا اور صدق کے ساتھ زندہ کیا گیا۔اے صدیق تو مدد دیا گیا۔(روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 53۔انجام آتھم ) انسان صدیق کب کہلاتا ہے اور اس کے اوصاف صدیق مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جو بالکل راستبازی میں فنا شدہ ہو۔اور کمال درجہ کا پابندِ راستبازی اور عاشق صادق ہو اس وقت وہ صدیق کہلاتا ہے۔یہ ایک ایسا مقام ہے جب ایک شخص اس درجہ پر پہنچتا ہے تو وہ ہر قسم کی صداقتوں اور راستبازیوں کا مجموعہ اور ان کو کشش کرنے والا ہو جاتا ہے۔جس طرح پر آتشی شیشہ سورج کی شعاعوں کو اپنے اوپر جمع کر لیتا ہے۔اسی طرح صدیق کمالات صداقت کا جذب کرنے والا ہوتا ہے۔بقول شخصے زرزر کشد در جہاں گنج گنج۔جب ایک شے بہت بڑا ذخیرہ پیدا کر لیتی ہے۔تو اسی قسم کی اشیاء کو جذب کرنے کی قوت اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔صدق کے کمال کے حصول کا فلسفہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی کمزوری اور