اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 212 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 212

اسماء المهدی صفحہ 212 کے آستانہ پر پڑ کر بالکل اپنے نفس سے گئے گزرے ہوتے ہیں۔خدا ان کو فانی اور ایک مصلا شیشے کی طرح پا کر اپنے رسول مقبول کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے یا کچھ آثار اور برکات اور آیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں حقیقت میں مرجع تام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ہی ہوتا ہے اور حقیقی اور کامل طور پر وہ تعریفیں اسی کے لائق ہوتی ہیں اور وہی ان کا مصداق اتم ہوتا ہے۔مگر چونکہ متبع سنن آں سرور کائنات کا اپنے غایت اتباع کے جہت سے اس شخص نورانی کے لئے کہ جو وجو د باجود حضرتِ نبوی ہے مثلِ خلق کے ٹھہر جاتا ہے۔اس لئے جو کچھ اس شخص مقدس میں انوار البہیہ پیدا اور ہویدا ہیں اُس کے اس ظل میں بھی نمایاں اور ظاہر ہوتے ہیں۔اور سایہ میں اس تمام وضع اور انداز کا ظاہر ہونا کہ جو اس کے اصل میں ہے ایک ایسا امر ہے کہ جو کسی پر پوشیدہ نہیں۔ہاں سامیہ اپنی ذات میں قائم نہیں اور حقیقی طور پر کوئی فضیلت اس میں موجود نہیں بلکہ جو کچھ اس میں موجود ہے وہ اس کہ شخص اصلی کی ایک تصویر ہے جو اس میں نمودار اور نمایاں ہے۔پس لازم ہے کہ آپ یا کوئی دوسرے صاحب اس بات کو حالتِ نقصان خیال نہ کریں کہ کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار باطنی ان کی امت کے کامل متبعین کو پہنچ جاتے ہیں۔اور سمجھنا چاہئے کہ اس انعکاس انوار سے کہ جو بطریق افاضہ دائمی نفوس صافیہ امت محمدیہ پر ہوتا ہے دو بزرگ امر پیدا ہوتے