اسماء المہدی علیہ السلام — Page 87
اسماء المهدی صفحه 87 اِبْنُ رَسُول الله إِنِّي مَعَكَ يَا ابْنَ رَسُول اللہ اے رسول اللہ کے بیٹے میں تیرے ساتھ ہوں۔سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو۔علی دِینِ 66 وَاحِدٍ۔تذکرہ صفحہ 490 ایڈیشن چہارم) " آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے ہیں۔اور اب کمالِ نبوت صرف اس شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہوگا۔اور اس طرح پر وہ آنحضرت ﷺ کا بیٹا اور آپ کا وارث ہوگا۔(روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 214 - ریویو بر مباحثہ چکڑالوی و بٹالوی) یہ امر جو ہے کہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کر و علی دین واحد۔یہ ایک خاص قسم کا امر ہے۔احکام اور امر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک شرعی رنگ میں ہوتے ہیں جیسے نماز پڑھو، زکوۃ دو، خون نہ کرو وغیرہ۔اس قسم کے اوامر میں ایک پیشگوئی بھی ہوتی ہے کہ گویا بعض ایسے بھی ہوں گے جو اس کی خلاف ورزی کریں گے جیسے یہود کو کہا گیا کہ توریت کو محرف و مبدل نہ کرنا۔یہ بتاتا تھا کہ بعض ان میں سے کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔غرض یہ امر شرعی ہے اور یہ اصطلاح شریعت ہے۔