اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 477 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 477

اسماء المهدی صفحہ 477 وو نور قُلْ جَاءَ كُمْ نُوْرٌ مِنَ اللَّهِ فَلَا تَكْفُرُوْا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْن۔کہ تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے۔پس اگر مومن ہو تو انکا رمت کرو۔تو جہان کا نور ہے“۔( تذکره طبع چہارم، صفحہ 545) ( تذکر طبع چہارم ، صفحہ 258) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مندرجہ بالا الہامات میں نور نام دیا گیا ہے۔حضور علیہ السلام اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہ نُورٌ عَلى نُور میں آنحضرت ﷺ کو نور کہا گیا ہے، نور نام کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: نور فائض ہوا نور پر یعنی جبکہ وجو د مبارک حضرت خاتم الانبیاء علی میں کئی نور جمع تھے۔سوان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الہی ہے، وارد ہو گیا۔پس اس میں یہ اشارہ فرمایا کہ نور وحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے، تاریکی پر وارد نہیں ہوتا۔کیونکہ فیضان کے لئے مناسب شرط ہے۔اور تاریکی کو نور سے کچھ مناسبت نہیں بلکہ نور کونور سے مناسبت ہے۔اور حلیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا۔ایسا ہی فیضانِ نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اس کو اور نور بھی دیا جاتا ہے۔اور جس کے پاس کچھ نہیں