اسماء المہدی علیہ السلام — Page 294
اسماء المهدی صفحہ 294 اور محمدی تشریعت کے برخلاف چلتا ہے۔اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے۔اور آنحضرت ﷺ کی پیروی نہیں کرتا بلکہ آپ کچھ بننا چاہتا ہے۔مگر خدا اس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے۔اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کو در حقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے۔اور اس کے فیض کا اپنے تئیں محتاج جانتا ہے۔پس ایسا شخص خدا تعالیٰ کی جناب میں پیارا ہو جاتا ہے۔اور خدا کا پیار یہ ہے کہ اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔اور اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور اس کی حمایت میں اپنے نشان ظاہر کرتا ہے۔اور جب اس کی پیروی کمال کو پہنچتی ہے تو ایک ظلی نبوت اس کو عطا کرتا ہے۔جو نبوت محمدیہ کا ظلت ہے۔یہ اس لئے کہ تا اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے۔اور تا اسلام ہمیشہ مخالفوں پر غالب رہے۔نادان آدمی جو دراصل دشمن دین ہے اس بات کو نہیں چاہتا کہ اسلام میں سلسلہ مکالمات مخاطبات الہیہ کا جاری رہے۔بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اسلام بھی اور مُردہ مذہبوں کی طرح ایک مُردہ مذہب ہو جائے۔مگر خدا نہیں چاہتا۔نبوت اور رسالت کا لفظ خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں میری نسبت صد ہا مرتبہ استعمال کیا ہے۔مگر اس لفظ سے صرف وہ مکالمات مخاطبات الہیہ مراد ہیں جو بکثرت ہیں اور غیب پر مشتمل ہیں۔اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے لِكُلّ ان يصطلح۔سوخدا کی یہ اصطلاح ہے کہ جو کثرت مکالمات ومخاطبات