اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 191 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 191

اسماء المهدی صفحہ 191 موت کا اور کوئی جسمانی نزول مانتا تھا اور کوئی بروزی نزول کا معتقد تھا۔اور کوئی دمشق میں ان کو اتار رہا تھا۔اور کوئی مکہ میں اور کوئی بیت المقدس میں اور کوئی اسلامی لشکر میں اور کوئی خیال کرتا تھا کہ ہندوستان میں اتریں گے۔پس یہ تمام مختلف رائیں اور مختلف قول ایک فیصلہ کرنے والے حکم کو چاہتے تھے۔سووہ حکم میں ہوں۔میں روحانی طور پر کسر صلیب اور نیز اختلافات کے دُور کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔۔میرے لئے ضروری نہیں تھا کہ میں اپنی حقیت کی کوئی دلیل پیش کروں۔کیونکہ ضرورت خود دلیل ہے۔“ میں جیسا کہ اور اختلافات میں فیصلہ کرنے کے لئے حکم ہوں ایسا ہی وفات حیات کے جھگڑے میں بھی حکم ہوں۔اور میں امام مالک اور ابن حزم اور معتزلہ کے قول کو مسیح کے بارے میں صحیح قرار دیتا ہوں۔مسیح کی وفات کے مسئلہ میں معتزلہ اور امام مالک اور ابن حزم وغیرہ ہمکلام ان کے بچے ہیں۔کیونکہ ہمو جب نص صریح آیت کریمہ یعنی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کے مسیح کا عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے وفات پانا ضروری تھا۔یہ میری طرف سے فیصلہ بطور حکم کے فیصلہ ہے۔اب جو شخص میرے فیصلہ کو قبول نہیں کرتا وہ اُس کو قبول نہیں کرتا جس نے مجھے حكم مقرر فرمایا ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 496-495۔ضرورت الامام )