اسماء المہدی علیہ السلام — Page 169
اسماء المهدی صفحہ 169 جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی رسول خدا تمام گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے پیرائیوں میں۔اس وحی الہی کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر آخیر تک جس قدر انبیاء علیہم السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں آئے ہیں۔خواہ وہ اسرائیلی ہیں یا غیر اسرائیلی، ان سب کے خاص واقعات یا خاص صفات میں سے اس عاجز کو کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ایک بھی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے خواص یا واقعات میں سے اس عاجز کو حصہ نہیں دیا گیا۔ہر ایک نبی کی فطرت کا نقش میری فطرت میں ہے۔اسی پر خدا نے مجھے اطلاع دی اور اس میں یہ بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے جانی دشمن اور سخت مخالف جو عناد میں حد سے بڑھ گئے تھے ، جن کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا گیا، اس زمانہ کے اکثر لوگ بھی ان سے مشابہ ہیں اگر وہ تو بہ نہ کریں۔غرض اس وحی الہی میں یہ جتلا نا منظور ہے کہ یہ زمانہ جامع کمالاتِ اخیار و کمالات اشرار ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ رحم نہ کرے تو اس زمانہ کے شریر تمام گزشتہ عذابوں کے مستحق ہیں۔یعنی اس زمانہ میں تمام گزشتہ عذاب جمع ہو سکتے ہیں۔اور جیسا کہ پہلی امتوں میں کوئی قوم طاعون سے مری۔کوئی قوم صاعقہ سے اور کوئی قوم زلزلہ سے اور کوئی قوم پانی کے