اسماء المہدی علیہ السلام — Page 479
اسماء المهدی صفحہ 479 اس تشریح اور وضاحت سے نور نام رکھنے کا فلسفہ یہ معلوم ہوا کہ اس نام کے ذریعہ معترضین کے اس اعتراض کا ازالہ بھی مدنظر ہے جو وہ مدعی وحی نبوت پر ناپا کی ، بداخلاقی ، خدا سے دوری اور عقلی و دماغی پراگندگی کا کرتے رہتے ہیں۔گویا نور نام رکھ کر آپ کی پاک اور سلیم فطرت اور آپ پر نازل ہونے والی عظیم الشان الہی برکات اور آپ کے عالی مقام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔نیز نور نام رکھ کر اس زمانہ کی علمی، اخلاقی اور روحانی ظلمت و تاریکی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کیونکہ نبی نور علی نور کا مصداق ہوتا ہے۔اور نور کی ضرورت ظلمت و تاریکی کے وقت ہی ہوتی ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب یہ تمام ظلمات اس نور کے ذریعہ سے کافور ہوں گی۔انشاء اللہ۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور علیہ السلام نے اپنے منظوم کلام میں فرمایا۔میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار اور فارسی نظم میں فرمایا: (روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 145۔براہین احمدیہ حصہ پنجم ) آمدم چون سحـر بلـجـه نـور تا شودت ــود تـيـ زنــــــورم دور (روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 478۔نزول مسیح) میں نور کا ایک طوفان لے کر صبح کی طرح آیا ہوں ، تا کہ یہ اندھیرا میرے نور کی وجہ سے دُور ہو جائے۔