اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 380 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 380

اسماء المهدی د, صفحہ 380 وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی آنحضرت کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں۔اور اس سے تعلیم اور تربیت پاویں۔پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا کہ وہ آنحضرت کا بروز ہوگا۔اس لئے اس کے اصحاب آنحضرت ﷺ کے صلى الله۔صلى الله اصحاب کہلائیں گے۔اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے۔بہر حال یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب صلى الله رسول اللہ رکھا جائے جو آنحضرت ہے کے بعد پیدا ہونے والے تھے۔جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو نہیں دیکھا۔آیت ممدوحہ بالا میں یہ تو نہیں فرمایا وَ آخَرِيْنَ مِنَ الْأُمَّةِ بلکہ یہ فرمایا وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ۔اور ایک ہر ایک جانتا ہے مِنْهُمْ کی ضمیر اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف راجع ہے۔لہذا وہی فرقہ مِنْهُمْ میں داخل ہو سکتا ہے جس میں ایسا رسول موجود ہو کہ جو آنحضرت ﷺ کا بروز ہے۔اور خدا تعالیٰ نے آج سے چھمیں برس پہلے میرا نام برا این احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے۔اور آنحضرت ﷺ کا بروز مجھے قرار دیا ہے“۔صلى الله روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 502 تتمہ حقیقة الوحی )