اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 379 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 379

اسماء المهدی صفحہ 379 سے رکھتی ہے دنیا میں آجاتی ہے۔اور اس روح کو اس روح سے صرف مناسبت ہی نہیں ہوتی بلکہ اس سے مستفیض بھی ہوتی ہے۔اور اس کا دنیا میں آنا بعینہ اس روح کا دنیا میں آنا شمار کیا جاتا ہے۔اس کو متصو فین کی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔“ (روحانی خزائن جلد 10، صفحہ 182۔ست بچن ) تمام نبی اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے۔یہاں تک کہ نام بھی ایک ہو جاتا ہے۔پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ جس طرح بروزی طور پر محمد اور احمد نام رکھے جانے سے دو محمد اور دو احمد نہیں ہو گئے اسی طرح بروزی طور پر نبی یا رسول کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم النبیین کی مہر ٹوٹ گئی۔کیونکہ وجود صلى الله بروزی کوئی الگ وجود نہیں۔اس طرح پر تو محمد کے نام کی نبوت محمد علی تک ہی محدود رہی۔تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دُوئی نہیں ہوتی کیونکہ بروز کا مقام اس مضمون کا مصداق ہوتا ہے کہ من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری (روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 214۔ایک غلطی کا ازالہ ) سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آپ کو سورۃ الجمعہ کی آیت وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْابِهِمْ کا مصداق قرار دیتے ہوئے خود کو بروز صلى الله قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: