اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 267 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 267

اسماء المهدی لفظ صفحہ 267 سے لیا گیا ہے۔شفع جفت کو کہتے ہیں جو طاق کی ضد ہے۔پس انسان کو اس وقت شفیع کہا جاتا ہے جبکہ وہ کمال ہمدردی سے دوسرے کا جفت ہو کر اس میں فنا ہو جاتا ہے اور دوسرے کے لئے ایسی ہی عافیت مانگتا ہے۔جیسا کہ اپنے نفس کے لئے۔اور یادر ہے کہ کسی شخص کا دین کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ شفاعت کے رنگ میں ہمدردی اس میں پیدا نہ ہو بلکہ دین کے دو ہی کامل حصے ہیں۔ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دعا کرنا۔جس کو دوسرے لفظوں میں شفاعت کہتے ہیں۔“ (روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 464-463 - نسیم دعوت ) حقیقی اور سچی بات یہ ہے کہ جو میں نے پہلے بھی بیان کی تھی کہ شفیع کے لئے ضروری ہے کہ اول خدا تعالیٰ سے تعلق کامل ہو تا کہ وہ خدا سے فیض کو حاصل کرے اور پھر مخلوق سے شدید تعلق ہو تا کہ وہ فیض اور خیر جو وہ خدا سے حاصل کرتا ہے، مخلوق کو پہنچاوے۔جب تک یہ دونوں تعلق شدید نہ ہوں ، شفیع نہیں ہوسکتا۔“ (الحکم نمبر 10 جلد 17،6مارچ1902ء صفحہ 4 کالم 3 ) اس مندرجہ بالا تشریح کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفیع کہہ کر آپ کے تعلق باللہ اور ہمدرد بنی نوع انسان ہونے کا اعلان کیا ہے۔چنانچہ جب ہم حضو علیہ السلام کی حیات طیبہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں آپ کی ساری زندگی خدا تعالیٰ کی محبت اور تعلق باللہ سے معمور نظر آتی ہے۔بنی نوع انسان کی ہمدردی، ان کے