اسماء المہدی علیہ السلام — Page 188
اسماء المهدی صفحہ 188 حِصْنٌ حَصِيْنٌ ”دنیا مجھے قبول نہیں کر سکتی کیونکہ میں دنیا میں سے نہیں ہوں۔مگر جن کی فطرت کو اس عالم کا حصہ دیا گیا ہے، وہ مجھے قبول کرتے ہیں اور کریں گے۔جو مجھے چھوڑتا ہے وہ اس کو چھوڑتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جو مجھ سے پیوند کرتا ہے وہ اس سے کرتا ہے جس کی طرف سے میں آیا ہوں۔میرے ہاتھ میں ایک چراغ ہے۔جو شخص میرے پاس آتا ہے ضرور وہ اس روشنی سے حصہ لے گا۔مگر جو شخص وہم اور بدگمانی سے دُور بھاگتا ہے وہ ظلمت میں ڈال دیا جائے گا۔اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں۔جو مجھ میں داخل ہوتا ہے وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا۔مگر جو میری دیواروں سے دُور رہنا چاہتا ہے، ہر طرف سے اس کوموت در پیش ہے۔اور اُس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔مجھ میں کون داخل ہوتا ہے؟ وہی جو بدی کو چھوڑتا ہے اور نیکی کو اختیار کرتا ہے اور کجی کو چھوڑتا اور راستی پر قدم مارتا ہے۔اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہوتا اور خدا تعالیٰ کا ایک بندہ مطبع بن جاتا ہے۔ہر ایک جو ایسا کرتا ہے وہ مجھ میں ہے اور میں اُس میں ہوں۔مگر ایسا کرنے پر فقط وہی قادر ہوتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نفس مزگی کے سایہ میں ڈال دیتا ہے۔تب وہ اس کے نفس کی دوزخ کے اندر اپنا پیر رکھ دیتا ہے تو وہ ایسا ٹھنڈا ہو جاتا ہے گویا