حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ

by Other Authors

Page 1 of 20

حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ — Page 1

حضرت اسماء حضرت اسماء بنت حضرت ابو بکر صدیق ”ذات النطاقین، تیره نبوی ستائیس ماہ صفر کی رات تھی، کفار مکہ قریش کے ہر قبیلے سے ایک ایک نو جوان منتخب کر کے کا شانہ نبوت کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ صبح ہو محمد ﷺ باہر آئیں اور وہ سب یکبارگی حملہ آور ہو کر ( نعوذ باللہ ) حضور ﷺ کا خاتمہ کر دیں۔مگر ان بد بختوں کو معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالی کے حکم پر رات کے پچھلے پہر ہی رسول اللہ اللہ سورۃ لین کی تلاوت کرتے ہوئے ، حضرت ابو بکر صدیق اپنے دوست کے ہمراہ مکہ معظمہ کو الوداع کہہ چکے تھے۔صبح ہوئی اور جب انہوں نے رسول خدا اللہ کے بستر اقدس پر حضرت علیؓ کو سوتے دیکھا تو بے حد پریشان ہوئے۔ابو جہل اپنے منصوبے کی ناکامی پر غصہ سے پاگل ہو گیا اور سیدھا حضرت ابو بکر کے گھر پہنچ کر زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے لگا، اندر سے ایک نو جوان لڑکی باہر آئیں۔ابو جہل نے پوچھا لڑکی:۔تمہارا باپ کدھر ہے؟ وہ بولی:۔بخدا مجھے معلوم نہیں۔بد زبان اور بد دماغ ابو جہل نے ایک زور دار طماچہ لڑکی کو مارا کہ