حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ

by Other Authors

Page 8 of 20

حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ — Page 8

حضرت اسماء 8 اس زمانے میں ایک دن حضرت اسماء گٹھلیوں کا گٹھا سر پر لا دے چلی آرہی تھیں کہ راستے میں حضور اقدس میلے کچھ اصحاب کے ساتھ مل گئے۔حضور ﷺ نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور چاہا کہ اسماءو اس میں سوار ہو جائیں لیکن اسماء شرم کی وجہ سے اونٹ پر نہ بیٹھیں اور گھر پہنچ کر حضرت زبیر سے سارا واقعہ بیان کیا۔انہوں نے کہا ”سبحان اللہ سر پر بوجھ لادنے سے شرم نہ آئی لیکن رسول اللہ ﷺ کے اونٹ پر بیٹھنے میں شرم و حیا مانع ہوئی۔“ کچھ عرصہ بعد حضرت ابو بکر نے حضرت اسماء اور حضرت زبیر کو ایک غلام عطا کیا۔جس نے گھوڑے اور اونٹ کی نگہداشت سنبھال لی اور حضرت اسماء کی ذمہ داری کم ہوگئی۔حضرت اسماء کو غریبوں کے دکھ کا بہت احساس تھا اس لئے آپ اپنا بہت سا مال غریبوں پر خرچ کرتی تھیں ، با وجود اس کے کہ انہوں نے ابتدائی گھریلو زندگی بہت تنگی سے گزاری ، مگر اس تنگی نے اُن کی طبیعت میں سنگدلی پیدا نہیں کی تھی ، رسول خداﷺ کی اس ہدایت کو :۔که اسماء ناپ تول کرمت خرچ کرو، ورنہ اللہ تعالی بھی نپی تلی روزی دے گا اپنی زندگی کا مقصد بنالیا اور کھلے دل سے خرچ کرنے لگیں اور اللہ تعالیٰ