اشکوں کے چراغ — Page 620
620 کیا ہمیں آپ بھی سرکار نہیں چاہتے ہیں یا فقط مفتی دربار نہیں چاہتے ہیں شام ہونے کو ہے اور منزل مقصود مقصود ہے دور عشرت سایۂ دیوار نہیں چاہتے ہیں گھپ اندھیرا ہے مگر عقل کے اندھے اب بھی جانے کیوں صبح کے آثار نہیں چاہتے ہیں آر کے دل میں ہے جو بات وہی تو ہے بات آپ جس بات کا اقرار نہیں چاہتے ہیں لئے عشق کے اظہار سے خائف ہیں آپ آپ کیوں عشق کا اظہار نہیں چاہتے ہیں دعوای عشق اگر سچا ہے پھر کیوں احباب رقص بسمل سر بازار نہیں چاہتے ہیں لذتِ درد میں مضطر نہ افاقہ ہو جائے کے بیمار نہیں چاہتے ہیں روا شہر